تل ابیب: امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل میں وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ معروف اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار Gideon Levy کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل کی سفارتی ناکامی بلکہ نیتن یاہو کی ذاتی شکست بھی ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے گیڈین لیوی نے کہا کہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا اور تہران کے جوہری و علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا نیتن یاہو کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا منصوبہ رہا ہے، تاہم موجودہ مذاکراتی عمل میں اسرائیل کو تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کا کوئی مؤثر کردار دکھائی نہیں دیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ خطے کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے اسرائیل کی شمولیت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
لیوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل سے باہر رہ جانے کے بعد اسرائیل کے پاس صرف محدود آپشنز رہ گئے تھے، جن میں تخریبی اقدامات یا دباؤ بڑھانے کی کوششیں شامل تھیں۔ انہوں نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملوں کو “غیر مؤثر اور بچگانہ کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اب صورتحال واضح طور پر اسرائیل کے لیے غیر تسلی بخش دکھائی دیتی ہے کیونکہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو مذاکرات کی میز پر اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جبکہ اسرائیل اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار کے مطابق اصل امتحان اب امریکی صدر Donald Trump کے لیے ہوگا کہ آیا وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی یا اسے نقصان پہنچانے سے روک سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اب بھی ایسے کسی بھی معاہدے سے ناخوش ہوں گے جو اسرائیل کی تمام سکیورٹی ترجیحات کو پورا نہ کرتا ہو۔
گیڈین لیوی نے خبردار کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ سمجھوتہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اس کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک لبنان کی صورتحال پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے لبنان کے معاملے کو معاہدے کے ساتھ جوڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے باعث دونوں معاملات اب ایک دوسرے سے منسلک ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول جب تک اسرائیلی فوج لبنان میں موجود ہے اور وہاں سے انخلا کا کوئی واضح ارادہ نہیں رکھتی، مکمل اور پائیدار جنگ بندی کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔
لیوی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی موجودگی کی صورت میں لبنان میں مزاحمتی کارروائیاں جاری رہنے کا امکان موجود ہے، جس سے کسی بھی “مکمل جنگ بندی” کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے کی طاقت کے توازن بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے، جہاں اپوزیشن پہلے ہی نیتن یاہو حکومت پر سفارتی تنہائی اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کے الزامات عائد کر رہی ہے۔