تہران: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن میں جنگ کے خاتمے، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد اہم تجاویز شامل ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مسودہ دونوں ممالک کے درمیان 100 روز سے زائد جاری رہنے والی کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی کو مستقل طور پر ختم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری لانا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پیدا کرنا بھی ہے۔
مسودے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے گی جبکہ ایران کے خلاف عائد امریکی بحری ناکہ بندی 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی اور توانائی بردار جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
دستاویز میں ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیوں کی معطلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے ایرانی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
مسودے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ایران کی جنگ سے متاثرہ معیشت اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔ اس مالی پیکج کو معاہدے کے سب سے اہم اور غیر معمولی نکات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جبکہ امریکا اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے آزاد کرے گا۔
ایک اور اہم شق کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کی حمایت جیسے معاملات کو حتمی مذاکراتی ایجنڈے سے خارج رکھا گیا ہے، جسے تہران کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
مسودے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ حتمی ایران۔امریکا معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے تاکہ معاہدے کو بین الاقوامی قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسودہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ دہائیوں میں ایران اور امریکا کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
مجوزہ 14 نکاتی ایران۔امریکا امن معاہدے کے اہم نکات
1. لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی۔
2. ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کا 30 دن کے اندر خاتمہ۔
3. آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنا۔
4. ایران کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کی معطلی۔
5. پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی۔
6. ایران کی تعمیرِ نو کے لیے امریکا اور اتحادی ممالک کی جانب سے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت۔
7. مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر منجمد اثاثوں کی رہائی۔
8. مذاکرات شروع ہونے سے قبل امریکا کی جانب سے 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے جاری کرنا۔
9. ایران کے گرد فوجی کشیدگی اور محاذ آرائی میں کمی کے اقدامات۔
10. ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ حتمی مذاکراتی عمل کا آغاز۔
11. اعتماد سازی کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے مرحلہ وار عملی اقدامات۔
12. ایران کے میزائل پروگرام کو حتمی مذاکراتی ایجنڈے سے خارج رکھنا۔
13. مزاحمتی گروپوں یا علاقائی اتحادیوں سے متعلق معاملات کو مذاکرات کا حصہ نہ بنانا۔
14. حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کرانا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان نکات میں سے بعض کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم اگر یہ شرائط برقرار رہتی ہیں تو معاہدہ خطے کی سیاسی، عسکری اور معاشی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔