فٹبال کے ہر بڑے ٹورنامنٹ، چاہے وہ ورلڈ کپ ہو یا کوئی اور عالمی مقابلہ، میں فاؤلز ہونا ایک عام بات ہے۔ جیسے ہی کوئی کھلاڑی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، ریفری اپنی جیب کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور اسی لمحے شائقین کی نظریں اس بات پر جم جاتی ہیں کہ باہر آنے والا کارڈ پیلا ہوگا یا سرخ۔
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ پیلا اور سرخ کارڈ آخر ہیں کیا، اور ان کی شروعات کیسے ہوئی؟
دراصل یہ دونوں کارڈ ریفری کی جانب سے کھلاڑیوں کے غیر ذمہ دارانہ، خطرناک یا غیر اخلاقی رویے پر دی جانے والی سزا یا وارننگ ہوتے ہیں۔ انہیں پینلٹی کارڈز بھی کہا جاتا ہے۔ پیلا کارڈ ایک تنبیہ کی علامت ہے، جبکہ سرخ کارڈ کا مطلب ہوتا ہے کہ کھلاڑی کو فوراً میدان چھوڑنا ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فٹبال میں یہ نظام شروع سے موجود نہیں تھا۔ کئی دہائیوں تک ریفریز صرف زبانی وارننگ دیتے تھے، جس سے اکثر غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی تھیں اور یہ جاننا مشکل ہوتا تھا کہ کس کھلاڑی کو تنبیہ دی جاچکی ہے۔
یہی مسئلہ فیفا کے سابق ریفری اور عہدیدار سر کینتھ جارج آسٹن کو ایک نئے حل کی طرف لے گیا۔

اس خیال کے پیچھے دو بڑے واقعات تھے۔ پہلا 1962 کے ورلڈ کپ میں چلی اور اٹلی کے درمیان کھیلا جانے والا بدنام زمانہ میچ تھا، جہاں کھیل شروع ہونے کے صرف 12 سیکنڈ بعد پہلا فاؤل ہوا، آٹھ منٹ میں ایک کھلاڑی کو باہر بھیج دیا گیا، جبکہ کھلاڑیوں کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے پولیس کو چار مرتبہ مداخلت کرنا پڑی۔
دوسرا واقعہ 1966 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان ہونے والا تنازع تھا، جہاں ریفری کے فیصلوں کو سمجھنا اور نافذ کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔
انہی واقعات نے سر کینتھ آسٹن کو سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جو دنیا کی ہر زبان بولنے والے کھلاڑی فوراً سمجھ سکیں۔
پھر ایک دن ویمبلے اسٹیڈیم سے واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے ان کی نظر ٹریفک سگنلز پر پڑی، اور وہیں سے انہیں زبردست خیال آیا۔
انہوں نے سوچا، جیسے ٹریفک میں پیلی بتی احتیاط اور خبردار ہونے کا پیغام دیتی ہے، اسی طرح فٹبال میں بھی پیلا کارڈ وارننگ کی علامت ہونا چاہیے۔ جبکہ سرخ بتی مکمل رک جانے کا اشارہ دیتی ہے، اس لیے سرخ کارڈ کا مطلب بھی کھیل سے فوری اخراج ہونا چاہیے۔
یہی نظام پہلی مرتبہ 1970 کے فیفا ورلڈ کپ میں متعارف کرایا گیا، اور آج پچاس برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود پوری دنیا میں یہی اصول رائج ہیں۔
اب بات کرتے ہیں پیلے کارڈ کی۔
پیلا کارڈ نسبتاً معمولی خلاف ورزیوں پر دیا جاتا ہے اور یہی فٹبال میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کارڈ ہے۔
پیلا کارڈ ملنے کے بعد کھلاڑی کو فوری طور پر میدان چھوڑنا نہیں پڑتا بلکہ وہ کھیل جاری رکھ سکتا ہے۔ ریفری اس کے ساتھ کھلاڑی کا نام، جرسی نمبر اور خلاف ورزی کی وجہ بھی نوٹ کرتا ہے تاکہ پورا ریکارڈ محفوظ رہے۔
لیکن اگر ایک ہی میچ میں کسی کھلاڑی کو دو مرتبہ پیلا کارڈ مل جائے تو دونوں مل کر سرخ کارڈ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اور پھر اسے فوراً میدان سے باہر جانا پڑتا ہے۔
اس صورتحال میں ٹیم کسی دوسرے کھلاڑی کو اس کی جگہ نہیں اتار سکتی، یعنی باقی میچ ایک کھلاڑی کم کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔
بعض مقابلوں میں مسلسل مختلف میچز میں پیلے کارڈز جمع ہونے پر بھی سزا دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھلاڑی کے مقررہ تعداد میں پیلے کارڈ مکمل ہوجائیں تو وہ اگلا میچ نہیں کھیل سکتا۔
ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں گروپ مرحلے سے لے کر کوارٹر فائنل تک کھلاڑیوں کو اضافی احتیاط کرنا پڑتی ہے، کیونکہ ایک اور پیلا کارڈ انہیں اگلے مرحلے سے باہر کرسکتا ہے، جبکہ کوارٹر فائنل کے بعد یہ گنتی دوبارہ صفر سے شروع کردی جاتی ہے۔
اب آتے ہیں سرخ کارڈ کی طرف۔
سرخ کارڈ صرف سنگین یا پرتشدد خلاف ورزی پر دکھایا جاتا ہے اور اسے ریفری کا سب سے سخت فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔
جیسے ہی کسی کھلاڑی کو سرخ کارڈ ملتا ہے، اسے فوراً میدان چھوڑنا پڑتا ہے، اور اس کی جگہ کوئی متبادل بھی نہیں آسکتا۔ اس کے علاوہ اکثر صورتوں میں وہ اگلا میچ بھی نہیں کھیل سکتا، جبکہ بعض خطرناک واقعات میں معطلی کا دورانیہ مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں اب تک 8 سرخ کارڈز دکھائے جاچکے ہیں۔
گول کیپر کے معاملے میں بھی قوانین خاصے دلچسپ ہیں۔
اگر کسی گول کیپر کو سرخ کارڈ مل جائے تو ٹیم کو باقی میچ صرف دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔
البتہ اگر ٹیم کے پاس ابھی متبادل کھلاڑی باقی ہوں تو ایک ریزرو گول کیپر کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے کسی آؤٹ فیلڈ کھلاڑی کو باہر آنا ہوگا۔ اگر تمام سبسٹی ٹیوشنز استعمال ہوچکی ہوں تو پھر ٹیم کے دس کھلاڑیوں میں سے ہی کسی ایک کو گول کیپنگ کی ذمہ داری سنبھالنی پڑتی ہے۔
زیادہ تر مواقع پر گول کیپر کو سرخ کارڈ اس وقت دکھایا جاتا ہے جب وہ پنالٹی ایریا سے باہر نکل کر مخالف کھلاڑی کو واضح گول کرنے سے غیر قانونی طریقے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔