بھارتی ٹیم میں سیاست یا میرٹ کا قتل؟ 15 سالہ اسٹار پر نئی بحث

فہرستِ مضامین

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی دفاعی چیمپئن بھارتی ٹیم آئرلینڈ کے ہاتھوں تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش ہو گئی، لیکن عالمی سطح پر اس شکست پر زیادہ چرچا نہ ہو سکا۔

البتہ بھارت میں اس ناکامی نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ، نئے کپتان شریاس ایئر اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شکست کی ایک بڑی وجہ 15 سالہ سنسنی خیز بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون میں شامل نہ کرنا تھی۔

شریاس ایئر نے آئرلینڈ کے خلاف شکست کو “شرمناک” قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے اسے صرف “مایوس کن” نتیجہ کہا، تاہم اب تمام نظریں انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز پر مرکوز ہیں، جہاں پہلا میچ ڈرہم کے چیسٹر لی اسٹریٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔

ویبھو سوریہ ونشی حالیہ مہینوں میں بھارتی کرکٹ کا سب سے بڑا ابھرتا ہوا نام بن چکے ہیں۔ آئی پی ایل کے تازہ سیزن میں انہوں نے محض 16 میچوں میں 776 رنز بنا کر سب سے زیادہ رنز اسکور کیے، متعدد انفرادی اعزازات اپنے نام کیے اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اس کے بعد انڈیا اے کی نمائندگی کرتے ہوئے سری لنکا اے کے خلاف صرف 11 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر انہوں نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا، جس میں پانچ چوکے اور پانچ بلند و بالا چھکے شامل تھے۔

انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویبھو کے ڈیبیو کے بارے میں جب کپتان شریاس ایئر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح جواب دینے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیریز سے قبل انہیں تجربہ کار بلے باز سوریا کمار یادو سے اہم مشورے بھی ملے ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر بھارتی شائقین ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے پر سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں مداحوں کا کہنا ہے کہ بہترین فارم میں موجود نوجوان کھلاڑی کو مسلسل نظر انداز کرنا ناانصافی ہے، جبکہ کچھ افراد نے اسے ٹیم کے اندرونی معاملات، سیاست اور سینئر کھلاڑیوں کے دباؤ کا نتیجہ بھی قرار دیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ 15 سالہ ویبھو کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ اگر انہیں کھلانے کا ارادہ نہیں تو کم از کم روزانہ پریس کانفرنسوں میں ان کے حوالے سے منفی بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔ بعض شائقین نے خبردار کیا کہ اس قسم کا رویہ ایک کم عمر کھلاڑی کے اعتماد اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

یاد رہے کہ شریاس ایئر نے آئرلینڈ سیریز کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے تجربہ کار اور ورلڈ کپ کھیلنے والے کرکٹرز کو ترجیح دی، اسی لیے نوجوان ویبھو کو موقع نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب سابق بھارتی کپتان کرشنا ماچاری سری کانت، جو ابتدا سے ویبھو کے حامی رہے ہیں، اب بھی سمجھتے ہیں کہ انہیں آئرلینڈ کے خلاف موقع ملنا چاہیے تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو میچوں میں اوپننگ کمبینیشن تبدیل کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اگر ویبھو سوریہ ونشی انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلتے ہیں تو وہ بھارت کی جانب سے سب سے کم عمر بین الاقوامی کرکٹرز میں شامل ہو جائیں گے، تاہم عالمی ریکارڈ ان کے نام نہیں آئے گا۔ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں کم عمر ترین ڈیبیو کا اعزاز پاکستان کے حسن رضا کے پاس ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں یہ ریکارڈ رومانیہ کے میرین گراسم کے نام ہے۔ البتہ بھارتی ریکارڈ کے اعتبار سے ویبھو، سچن ٹنڈولکر کا کئی دہائیوں پرانا کم عمری میں ڈیبیو کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں