فلاڈیلفیا: فرانس نے سخت گرمی اور پیراگوئے کے دفاعی و جارحانہ کھیل کے باوجود کائلان ایمباپے کے فیصلہ کن گول کی بدولت 0-1 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں اس کا مقابلہ مراکش سے ہوگا۔
ہفتے کو کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں فرانس کو کامیابی دلانے والا واحد گول کپتان کائلان ایمباپے نے دوسرے ہاف میں پنالٹی کک پر اسکور کیا۔ یہ ان کے ورلڈ کپ کیریئر کا 19واں گول تھا، جس سے فرانس کسی بڑے اپ سیٹ سے محفوظ رہا، جیسا کہ اس ٹورنامنٹ میں جرمنی کو پیراگوئے اور ارجنٹائن کو کیپ ورڈی کے خلاف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایمباپے نے کہا کہ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ پیراگوئے مقابلے کو جسمانی اور سخت بنائے گا، لیکن فرانسیسی ٹیم ہر طرح کے چیلنج کے لیے تیار تھی۔
انہوں نے کہا، “ہم صرف خوبصورت فٹبال ہی نہیں کھیل سکتے بلکہ ضرورت پڑنے پر سخت اور جارحانہ انداز بھی اپنا سکتے ہیں۔ پیراگوئے نے ہمیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی، مگر ہم ہر شعبے میں ان سے بہتر ثابت ہوئے۔”
فرانس کو میچ سے قبل مڈفیلڈر اوریلین چوآمینی کی انجری کا دھچکا ضرور لگا، تاہم ٹیم نے میدان میں بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا اور زیادہ تر وقت گیند پر کنٹرول برقرار رکھا۔
شدید گرمی، جہاں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، دونوں ٹیموں کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔ پہلے ہاف میں کوئی بھی ٹیم گول پر مؤثر شاٹ نہ لگا سکی۔
میچ کا فیصلہ 70ویں منٹ میں ہوا، جب متبادل کھلاڑی ڈیزائر ڈوئے کو پنالٹی ایریا میں ڈیگو گومیز نے فاؤل کیا۔ وی اے آر کے جائزے کے بعد ریفری نے پنالٹی دی، جس پر ایمباپے نے انتہائی اعتماد کے ساتھ گیند کو گول کیپر اورلینڈو گل کے برعکس سمت میں بھیج کر فرانس کو برتری دلا دی۔
یہ ٹورنامنٹ میں ایمباپے کا ساتواں گول بھی تھا، جس کے بعد وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں لیونل میسی کے برابر پہنچ گئے، جبکہ ریکارڈ سے اب صرف ایک گول کی دوری پر ہیں۔
میچ کے اختتامی لمحات میں پیراگوئے نے واپسی کی بھرپور کوشش کی، اور 90ویں منٹ میں فرانسیسی گول کیپر مائیک مینیان نے ایک اہم سیو کر کے اپنی ٹیم کی برتری برقرار رکھی۔ آخری لمحات میں پیراگوئے نے دباؤ بڑھایا، مگر فرانس کا دفاع مضبوطی سے ڈٹا رہا اور ٹیم نے کامیابی کے ساتھ کوارٹر فائنل کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔