ورلڈ کپ کا خواب ادھورا رہ گیا، مگر رونالڈو کی عظمت پر سوال کیوں؟

فہرستِ مضامین

کرسٹیانو رونالڈو کے چھٹے اور آخری فیفا ورلڈ کپ کا اختتام ایک بار پھر مایوسی پر ہوا۔ اسپین کے خلاف راؤنڈ آف 16 میں پرتگال کی ایک صفر سے شکست کے ساتھ 41 سالہ سپر اسٹار کا وہ خواب بھی ٹوٹ گیا جس کا وہ 2006 سے تعاقب کر رہے تھے۔

ورلڈ کپ سے قبل ہی رونالڈو اعلان کر چکے تھے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری عالمی کپ ہوگا۔ شکست کے بعد ان کی نم آنکھوں نے دنیا بھر کے کروڑوں مداحوں کو جذباتی کر دیا، کیونکہ فٹبال کی تقریباً ہر بڑی کامیابی حاصل کرنے والا یہ عظیم کھلاڑی واحد بڑی ٹرافی، یعنی ورلڈ کپ، اپنے نام نہ کر سکا۔

رونالڈو نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں 27 میچ کھیلتے ہوئے 11 گول اسکور کیے۔ 2006 میں اپنے پہلے عالمی کپ میں وہ پرتگال کو سیمی فائنل تک لے گئے، مگر اس کے بعد ہر ورلڈ کپ ان کے لیے ایک نئی مایوسی ثابت ہوا۔

رونالڈو کی زندگی خود بھی جدوجہد اور کامیابی کی ایک غیر معمولی کہانی ہے۔ شدید غربت، کم عمری میں دل کی بیماری، والد کی وفات اور ذاتی زندگی کے کئی مشکل مراحل کے باوجود انہوں نے ہر بار خود کو سنبھالا اور فٹبال کی دنیا میں نئے ریکارڈ قائم کیے۔

پرتگال کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث آ گیا کہ کیا کسی کھلاڑی کی عظمت کا فیصلہ صرف ورلڈ کپ جیتنے سے ہوتا ہے؟ ایک طبقے کے نزدیک ورلڈ کپ ہر عظیم فٹبالر کا آخری امتحان ہے، جبکہ دوسرے شائقین کا ماننا ہے کہ ایک کھلاڑی کی میراث کو صرف ایک ٹورنامنٹ کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔

اسی بحث کے دوران معروف فٹبال یوٹیوبر مارکارونی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ شاید پرتگال کی ٹیم میں وہ مشترکہ جذبہ ہی موجود نہیں تھا جو کسی ورلڈ چیمپئن ٹیم کی پہچان ہوتا ہے۔

ان کے مطابق پرتگال کے پاس تقریباً ہر پوزیشن پر عالمی معیار کے کھلاڑی موجود تھے، لیکن میدان میں ٹیم ورک، ہم آہنگی اور مشترکہ مقصد واضح دکھائی نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ پوری ٹیم اپنے کپتان کے آخری ورلڈ کپ کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ایک ہو کر کھیل رہی ہو۔

مارکارونی نے یہ بھی کہا کہ اسپین کے خلاف شکست کے بعد رونالڈو کے ساتھ ساتھی کھلاڑیوں کا رویہ بھی توجہ کا مرکز بنا۔ ان کے مطابق میچ ختم ہونے کے بعد وہ جذباتی لمحہ دیکھنے کو نہیں ملا جہاں پوری ٹیم اپنے قائد کے گرد جمع ہوتی، جس سے ٹیم کے اندر اتحاد پر مزید سوالات اٹھنے لگے۔

انہوں نے کوچ روبرٹو مارٹینیز کی حکمت عملی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب واضح تھا کہ رونالڈو اپنی عمر کے باعث پہلے جیسا اثر نہیں ڈال پا رہے تو بروقت تبدیلیاں کیوں نہیں کی گئیں اور نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع کیوں نہیں دیے گئے۔

دوسری جانب خود رونالڈو متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ انہیں اپنے کیریئر پر کوئی افسوس نہیں۔ ان کے مطابق یورو 2016، نیشنز لیگ اور دیگر کامیابیاں ان کے لیے باعثِ فخر ہیں، جبکہ پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینیز نے بھی شکست کے باوجود رونالڈو کو فٹبال کی تاریخ کا ایک منفرد آئیکون قرار دیا۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو رونالڈو کے کیریئر میں پانچ بیلن ڈور، پانچ یوئیفا چیمپئنز لیگ ٹائٹلز، یورپی چیمپئن شپ، یوئیفا نیشنز لیگ، 900 سے زائد کیریئر گول اور دو دہائیوں تک عالمی سطح پر شاندار کارکردگی شامل ہے۔

اگرچہ ورلڈ کپ کی ٹرافی ان کے کیریئر کا حصہ نہ بن سکی، لیکن یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ کیا ایک ٹرافی واقعی ایسے کھلاڑی کی عظمت کا فیصلہ کر سکتی ہے جس نے فٹبال کی تاریخ میں بے شمار ناقابلِ فراموش ریکارڈ قائم کیے ہوں، یا پھر رونالڈو کی میراث اس ایک ادھورے خواب سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں