پی اے سی کا بڑا ایکشن، جیکب آباد سمیت 7 بلدیاتی افسران معطل، چیف میونسپل افسر ہٹانے کا حکم

فہرستِ مضامین

کراچی: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے آڈٹ ریکارڈ پیش نہ کرنے اور اجلاس سے غیر حاضر رہنے پر لاڑکانہ ڈویژن کی مختلف لوکل کونسلز کے سات افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے، جبکہ میونسپل کمیٹی جیکب آباد میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف میونسپل افسر کو بھی عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کر دی گئی۔

چیئرمین پی اے سی نثار احمد کھوڑو کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں رکن کمیٹی قاسم سومرو، محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں لاڑکانہ ڈویژن کی لوکل کونسلز کے مالی سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ لاڑکانہ ڈویژن کی 19 لوکل کونسلز میں سے 7 کونسلز نے مطلوبہ آڈٹ ریکارڈ جمع نہیں کرایا، جبکہ متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کونسل جیکب آباد کے چیف افسر، میونسپل کمیٹی شہدادکوٹ اور شکارپور کے چیف میونسپل افسران، ٹاؤن کمیٹی گاجی کھاوڑ، غوث پور، گڈو اور کشمور کے ٹاؤن افسران کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی صوبے کا سب سے بڑا آئینی احتسابی فورم ہے، اس لیے آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنا اور اجلاس سے غیر حاضر رہنا ناقابل قبول غفلت ہے، اور ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں میونسپل کمیٹی جیکب آباد کی جانب سے سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز (سیپرا) کی مبینہ خلاف ورزی کا بھی انکشاف ہوا۔ آڈٹ کے مطابق 2022 کی بارشوں کی ایمرجنسی کو جواز بنا کر 2023 میں ٹینڈر جاری کیے بغیر مختلف کوٹیشنز کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کے ٹھیکے ایک ہی ٹھیکیدار کو دیے گئے۔

اس معاملے پر پی اے سی نے چیف میونسپل افسر جیکب آباد کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ کسی دوسرے افسر کی تعیناتی کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ کونسل کشمور-کندھکوٹ کے سابق چیف افسر، جو اس وقت بولہڑی میں تعینات ہیں، کو بھی 17 ملین روپے کے سینیٹیشن اور دیگر منصوبوں کے ٹھیکے کوٹیشنز کے ذریعے دینے پر بولہڑی سے ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں