نیو جرسی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے اضافی وقت میں ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے ثابت کر دیا کہ اس وقت دنیا کی سب سے مضبوط اور متوازن فٹبال ٹیم وہی ہے۔
اسپین پہلے ہی یورو کپ، اولمپکس اور ویمنز ورلڈ کپ کی چیمپئن ہے، جبکہ اب ورلڈ کپ جیت کر اس نے عالمی فٹبال پر اپنی حکمرانی مزید مستحکم کر دی ہے۔
اسپین کی حکمتِ عملی نے میسی کو بے اثر کر دیا
فائنل میں اسپین نے شاندار بال کنٹرول اور زیادہ سے زیادہ پوزیشن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی، جس کی وجہ سے ارجنٹینا کے سپر اسٹار لیونل میسی زیادہ تر میچ میں مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔
اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں آٹھ میچ کھیل کر صرف ایک گول کھایا، جبکہ دفاعی جوڑی پاؤ کوبارسی اور ایمیرک لاپورٹ نے بہترین پوزیشننگ اور عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ گول کیپر اونائی سیمون نے بھی کئی اہم مواقع پر ارجنٹینا کو گول کرنے سے روک دیا۔
نوجوان کھلاڑیوں نے فتح میں اہم کردار ادا کیا

اگرچہ تمام نظریں 19 سالہ لامین یامال پر تھیں، تاہم فائنل میں اصل فرق نوجوان ڈیفنڈر پاؤ کوبارسی، رائٹ بیک پیڈرو پورو، نیکو ولیمز اور فیران ٹوریس نے پیدا کیا۔
کوبارسی کی وجہ سے ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز کو ریڈ کارڈ ملا، جس کے بعد اسپین کو عددی برتری حاصل ہوئی۔ اضافی وقت میں پیڈرو پورو کے شاندار کراس پر نیکو ولیمز نے ہیڈ کیا اور فیران ٹوریس نے زبردست ہاف والی کے ذریعے فیصلہ کن گول اسکور کر دیا۔
لوئس ڈی لا فوئنٹے کی کوچنگ ایک بار پھر کامیاب
اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب ثابت ہوئی، اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نیکو ولیمز کو آغاز سے میدان میں اتارا جاتا تو اسپین شاید مقررہ وقت میں ہی کامیابی حاصل کر لیتا۔
روڈری نے ایک بار پھر اپنی اہمیت ثابت کر دی
اگرچہ روڈری نے پورے ٹورنامنٹ میں کوئی گول یا اسسٹ نہیں کیا، لیکن مڈفیلڈ پر ان کی گرفت، کھیل کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور مخالف حملوں کو روکنے میں ان کا کردار غیر معمولی رہا۔
گھٹنے کی سرجری کے بعد واپسی کرنے والے روڈری نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی دنیا کے بہترین مڈفیلڈرز میں شمار ہوتے ہیں۔
48 ٹیموں والا ورلڈ کپ، کیا واقعی بہترین تھا؟
فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے اس ورلڈ کپ کو تاریخ کا بہترین ٹورنامنٹ قرار دیا، تاہم ناقدین کے مطابق 48 ٹیموں، 104 میچز، طویل دورانیے اور فائنل میں غیر ضروری تاخیر، ہاف ٹائم شو اور اضافی وقفوں نے مقابلے کے اصل جوش کو کسی حد تک متاثر کیا۔
میسی کے لیے ایک اور تلخ یاد
نیو جرسی کا میدان ایک بار پھر لیونل میسی کے لیے خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔ 2016 کے کوپا امریکا سینٹیناریو فائنل میں بھی وہ اسی مقام پر شکست کا سامنا کر چکے تھے، اور اب 2026 ورلڈ کپ فائنل میں بھی اسپین نے انہیں ٹائٹل سے محروم کر دیا۔
اس میچ میں ارجنٹینا اپنے کپتان کو مؤثر انداز میں گیند فراہم نہ کر سکی، جس کے باعث میسی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہ کر سکے۔ اس شکست نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنا ٹیم کھیلوں میں سب سے مشکل کارناموں میں سے ایک ہے۔