سام آلٹمین کا بڑا دعویٰ: کیا مصنوعی ذہانت انسانی دور سے آگے نکل چکی ہے؟

فہرستِ مضامین

نیویارک: مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں دنیا کی معروف کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے سربراہ سام آلٹمین نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے ماہرین “سنگیولیرٹی (Singularity)” کہتے ہیں، یعنی وہ وقت جب مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے آگے بڑھنے لگتی ہے۔

سام آلٹمین نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ برسوں سے اس لمحے کے منتظر تھے اور ان کے نزدیک یہ تبدیلی انسانیت کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق AI تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مستقبل میں یہ صحت، تعلیم، تحقیق اور روزمرہ زندگی سمیت کئی شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔

سنگیولیرٹی کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق سنگیولیرٹی ایک نظریاتی تصور ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت اس قدر ترقی کر جاتی ہے کہ وہ خود اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی سمجھ اور کنٹرول سے کہیں زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔

اس تصور پر ابھی تک عملی اتفاق رائے موجود نہیں، تاہم برسوں سے سائنس فکشن فلموں اور سائنسی مباحث میں اسے مستقبل کے ایک اہم موڑ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

امید یا خطرہ؟

جہاں سام آلٹمین اس پیش رفت کو دنیا کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہیں، وہیں کئی سائنس دان اور AI ماہرین محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

انتھروپک (Anthropic) نامی AI کمپنی، جو Claude چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے، نے حال ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ جدید AI نظاموں کی ترقی کو ضرورت پڑنے پر عارضی طور پر روکنے کا عالمی طریقۂ کار بنایا جائے تاکہ اگر ٹیکنالوجی انسانی کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو بروقت کارروائی ممکن ہو۔

امریکہ میں نئی قانون سازی کی تجویز

مصنوعی ذہانت سے بڑھتے خدشات کے پیش نظر امریکی کانگریس میں AI Kill Switch Act نامی ایک مجوزہ بل بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت AI تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے جدید ماڈلز میں ایسا حفاظتی نظام شامل کرنا ہوگا جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر انسان AI کو سست، معطل یا مکمل طور پر بند کر سکیں۔

ماہرین کیوں فکر مند ہیں؟

حالیہ مہینوں میں کئی تحقیقی رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ AI کی غیر معمولی رفتار سے ترقی مستقبل میں بڑے معاشی اور سکیورٹی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

  • ماہرین کے مطابق لاکھوں ملازمتیں خودکار نظاموں کی نذر ہو سکتی ہیں۔
  • سائبر حملوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔
  • بعض محققین نے ایسے AI پروگراموں کی نشاندہی کی ہے جو خود کو بدلتے ہوئے کمپیوٹر نیٹ ورکس میں تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔

دوسری جانب حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی علاج، سائنسی تحقیق، صنعت اور معیشت میں غیر معمولی ترقی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

مستقبل کس سمت جائے گا؟

فی الحال یہ واضح نہیں کہ دنیا واقعی “سنگیولیرٹی” کے دور میں داخل ہو چکی ہے یا نہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے حکومتوں، سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ترقی اور تحفظ کے درمیان متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں