واشنگٹن: امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ہونے والے جانی نقصانات کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
پینٹاگون نے اپنے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (DCAS) کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے 140 سے زائد نئے زخمی فوجیوں کا اندراج کیا ہے، جبکہ حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار فوجیوں کو بھی سرکاری ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے پہلی بار “اوورسیز آپریشنز” کے نام سے ایک نئی کیٹیگری متعارف کرائی ہے، جس میں 7 جولائی سے بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر اس نئے ڈیٹا کو آپریشن ایپک فیوری کے اعداد و شمار کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف جاری جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد اس سے پہلے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے، کیونکہ قبل ازیں زخمی فوجیوں کی تعداد 482 بتائی گئی تھی۔
پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے 18 اہلکاروں میں:
- 11 امریکی آرمی
- 6 امریکی ایئر فورس
- 1 امریکی بحریہ (نیوی) سے تعلق رکھتا تھا۔
جبکہ زخمی ہونے والے 624 اہلکاروں میں:
- 461 آرمی
- 86 نیوی
- 58 ایئر فورس
- 19 میرین کور کے اہلکار شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے امریکی میڈیا اور متعدد قانون سازوں نے پینٹاگون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ایرانی حملوں کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں جانی نقصانات کی مکمل تصویر پیش نہیں کی جا رہی تھی۔
اگرچہ نئی “اوورسیز آپریشنز” کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد ہونے والے نقصانات شامل کیے گئے ہیں، تاہم پینٹاگون نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ہلاکتوں اور زخمیوں کا تعلق کس مخصوص فوجی کارروائی یا محاذ سے ہے۔
البتہ جاری کی گئی فہرست میں ان فوجیوں کے نام شامل ہیں جو اردن میں ایرانی حملے کے دوران مارے گئے، جبکہ ایک امریکی فوجی گزشتہ ہفتے شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔
تازہ اعداد و شمار کے اجرا کے بعد ایران جنگ میں امریکی فوج کے حقیقی نقصانات اور پینٹاگون کی شفافیت سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔