13 دن کی جنگ، پھر اچانک وقفہ… آخر کیوں؟

فہرستِ مضامین

واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف نئے حملوں سے گریز کیا، جبکہ سفارتی ذرائع دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکی افواج مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے، اسی لیے فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں فی الحال روک دی ہیں۔

13 روزہ حملوں کے بعد خاموشی

امریکا نے اس وقفے سے قبل مسلسل 13 روز تک ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا تھا، تاہم گزشتہ دو راتوں سے کوئی نیا فضائی حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی کہ امریکا نے دو راتوں سے حملے بند کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی حکمتِ عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اس لیے امریکی حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

تیل کی منڈیوں میں مثبت ردعمل

امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی جیسے ماحول کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی دکھائی دیا۔

پیر کی صبح ایشیائی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں سرمایہ کاروں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

مذاکرات کی کوششیں جاری

ذرائع کے مطابق جون کے وسط میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عبوری سمجھوتہ طے پایا تھا، جس کے تحت 60 روز کے اندر مزید مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس مدت کا تقریباً نصف حصہ گزر چکا ہے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر اب تک باضابطہ بات چیت شروع نہیں ہو سکی۔

پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک بھی دونوں فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

امریکی میڈیا کا نیا دعویٰ

امریکی میڈیا میں بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں وقفے کی ایک وجہ امریکا کے میزائلوں اور دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر بڑھتا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے پاس کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی کمی نہیں۔

نیتن یاہو کی ٹرمپ سے اہم ملاقات متوقع

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

توقع ہے کہ ملاقات میں ایران، اس کے جوہری پروگرام اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ نیتن یاہو صدر ٹرمپ پر تہران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔

سفارت کاری یا نئی حکمتِ عملی؟

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو امریکا کے پاس دیگر تمام آپشنز بھی موجود ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان وقتی خاموشی نے اگرچہ مذاکرات کی امید پیدا کر دی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق خطے کی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور آئندہ چند روز اس کشیدگی کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں