زلزلہ، سونامی اور ایمرجنسی! جاپان میں ہائی الرٹ نافذ

فہرستِ مضامین

جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے نے خوف و ہراس پھیلا دیا، جس کے بعد حکام نے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی وارننگ جاری کر دی جبکہ متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔

جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے بعد ایک میٹر تک بلند سمندری لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا، جس پر متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔

زلزلے کے جھٹکے کوماموتو، ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوؤکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی سمیت کئی صوبوں میں شدت سے محسوس کیے گئے۔ حکومت نے ان تمام علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید طاقتور زلزلوں کے امکان کو نظرانداز نہ کریں اور حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے نقصانات کا فوری جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

زلزلے کا مرکز اوکی شہر کے قریب، کوماموتو کے جنوب میں زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔

قدرتی آفت کے باعث تقریباً 40 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی جبکہ ریلوے حکام نے احتیاطی تدابیر کے تحت تیز رفتار بلٹ ٹرین سمیت متعدد ٹرین سروسز معطل کر دیں۔

اس علاقے میں دنیا کی بڑی کمپنیوں سونی اور چپ ساز ادارے TSMC کے صنعتی پلانٹس بھی موجود ہیں، تاہم فوری طور پر کسی بڑے صنعتی یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جاپان کے نیوکلیئر ریگولیٹری ادارے نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں موجود جوہری بجلی گھروں میں کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔

واضح رہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ بحرالکاہل کے “رِنگ آف فائر” پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں دنیا کے تقریباً 20 فیصد بڑے زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں، اسی لیے ملک میں زلزلہ اور سونامی سے نمٹنے کے لیے جدید ترین ہنگامی نظام موجود ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں