فرانس فٹبال فیڈریشن نے ملکی فٹبال کے عظیم ترین لیجنڈ زین الدین زیدان کو باضابطہ طور پر قومی ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ سابق کپتان اور ورلڈ کپ فاتح زیدان نے دیدیے دیشان کی جگہ سنبھال لی ہے، جن کا 14 سالہ کامیاب دور ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
54 سالہ زیدان کو چار سالہ معاہدے پر ٹیم کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ وہ اپنی کوچنگ مہم کا آغاز آئندہ یوئیفا نیشنز لیگ میں ترکی کے خلاف میچ سے کریں گے، جبکہ اس کے بعد فرانس کی ٹیم 2 اکتوبر کو اسٹیڈ ڈی فرانس میں اٹلی کی میزبانی کرے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زیدان نے کہا کہ “ریال میڈرڈ چھوڑنے کے بعد میری صرف ایک ہی خواہش تھی، اور وہ فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ تھی۔ میں نے کسی کلب کی پیشکش اسی لیے قبول نہیں کی کیونکہ میرا خواب صرف یہی عہدہ تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ جب دیدیے دیشان نے جنوری 2025 میں اپنے مستقبل سے متعلق فیصلہ کیا تو اسی وقت انہوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ اگلے قومی کوچ بننے کی کوشش کریں گے۔ بعد ازاں فیڈریشن کے صدر سے ملاقات کے بعد تمام معاملات طے پا گئے۔
دیدیے دیشان نے فرانس کی ٹیم کے ساتھ 14 برس گزارے، اس دوران انہوں نے 185 میچز میں ٹیم کی قیادت کی اور 120 فتوحات حاصل کیں۔ ان کی نگرانی میں فرانس نے 2018 کا فیفا ورلڈ کپ اور 2020-21 یوئیفا نیشنز لیگ کا ٹائٹل جیتا، جبکہ یورو 2016 اور ورلڈ کپ 2022 کے فائنل تک بھی رسائی حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زیدان اور دیشان کا رشتہ صرف کوچنگ تک محدود نہیں۔ دونوں 1998 میں فرانس کو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جتوانے والی تاریخی ٹیم کے اہم کھلاڑی تھے۔ اسی ٹورنامنٹ میں زیدان نے شاندار کارکردگی دکھا کر عالمی شہرت حاصل کی اور اسی سال دنیا کے بہترین فٹبالر کا بیلن ڈی اور (Ballon d’Or) ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔
اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا زین الدین زیدان بطور کوچ بھی وہی کامیابیاں دہرا سکیں گے جو انہوں نے ایک کھلاڑی کے طور پر فرانس کو دلائی تھیں۔