بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آفیشل فیس بک ویڈیو اچانک غائب ہونے سے سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی۔ ویڈیو دیکھنے کی کوشش کرنے والے متعدد صارفین کو یہ پیغام ملا کہ “یہ مواد آپ کے خطے میں قانونی درخواست کی وجہ سے دستیاب نہیں ہے”، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو وزیراعظم مودی کی جانب سے نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی (Gen Z)، سے خطاب پر مشتمل تھی، جس میں انہوں نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے حالیہ اسکینڈل پر طلبہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس جرم کے خلاف سخت قانون اور فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے جا رہی ہے۔
ویڈیو کے اچانک غائب ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی عدالت یا حکومتی ادارے نے مواد ہٹانے کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر صارفین کو “قانونی درخواست” والا پیغام کیوں دکھایا گیا؟
کچھ صارفین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ چونکہ یہ مودی کی سیلفی انداز میں ریکارڈ کی گئی پہلی فیس بک ویڈیو تھی، اس لیے ممکن ہے کہ معاملہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو۔
واقعے کے بعد بھارتی حکومت بھی متحرک ہو گئی۔ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا سے فوری وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ وزیراعظم کے سرکاری اکاؤنٹ سے ویڈیو کیوں ہٹائی گئی اور صارفین کو قانونی پابندی سے متعلق پیغام کس بنیاد پر دکھایا گیا۔
چند گھنٹوں بعد میٹا نے وضاحت جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ویڈیو غلطی سے ہٹا دی گئی تھی اور اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ “مواد تکنیکی غلطی کے باعث ہٹا تھا، جسے اب بحال کر دیا گیا ہے۔” میٹا نے بھارتی حکومت کو بھی یقین دہانی کرائی کہ ویڈیو کو ہٹانا نہ تو کمپنی کی کسی پالیسی کا حصہ تھا اور نہ ہی کوئی دانستہ فیصلہ، بلکہ یہ صرف ایک عارضی تکنیکی مسئلہ تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خودکار کانٹینٹ ماڈریشن سسٹم، شفافیت اور اظہارِ رائے سے متعلق پالیسیوں پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ وزیراعظم مودی کی ویڈیو کے مختصر وقت کے لیے غائب ہونے نے ایک بار پھر میٹا کے نگرانی کے نظام اور اس کی قابلِ اعتماد کارکردگی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔