نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل ٹرمپ نے ایران کو خبردار کر دیا

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری رابطوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازع میں پلوں اور بجلی گھروں جیسے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن حالات نے مجبور کیا تو کارروائی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ ایک انتہائی نازک صورتحال ہے۔ اس وقت ہماری پوزیشن مضبوط ہے اور ایران جانتا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو دوبارہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق، “ہماری کچھ بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا پیش رفت ہوتی ہے۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی اہم ملاقات قرار دی جا رہی ہے۔

ملاقات سے قبل ٹرمپ سے ایران کے زیرِ زمین جوہری مقام “پک ایکس ماؤنٹین” سے متعلق سوال کیا گیا، جہاں اطلاعات کے مطابق جوہری سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات موجود ہیں۔

اس پر امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس مقام کے بارے میں پہلے ہی مکمل معلومات ہیں اور نیتن یاہو سے معلومات لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا، “وہ مجھے یہ باتیں اس لیے بتاتے ہیں تاکہ میں اس معاملے میں شامل رہوں، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔”

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنا چکا ہے اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو مزید کارروائی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا، “اگر ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تو ہمیں پک ایکس کو بھی نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے، اور اسے تباہ کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ہوگا۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایک طرف مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں