ٹرمپ-نیتن یاہو ملاقات، دوستی مضبوط یا اختلافات برقرار؟

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔

ملاقات کے بعد نیتن یاہو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے گفتگو کو “مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

یہ ملاقات ایران کے ساتھ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جبکہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ آٹھویں ملاقات بھی ہے۔

اگرچہ دونوں رہنما قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ایران، لبنان اور خطے کی جنگی حکمتِ عملی پر اختلافات کے باعث تعلقات میں تناؤ کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکہ کے بعض اعلیٰ حکام نیتن یاہو کی جنگی پالیسی اور اس کے نتائج سے مطمئن نہیں تھے۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کو بعض مواقع پر اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع سے روکنے کے لیے بھی مداخلت کرنا پڑی، جبکہ جون میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک سخت ٹیلیفونک گفتگو بھی خبروں کی زینت بنی تھی، جس میں مبینہ طور پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے اس فون کال کی تصدیق بھی کی تھی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات قریب آ رہے ہیں اور نیتن یاہو امریکی حمایت مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر ایران پر نئے حملے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم ان کے مطابق امریکہ اس وقت ایسی کسی کارروائی کی حمایت کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں