پرچہ لیک کرنے والوں کی اب خیر نہیں، بڑا قانون پاس

فہرستِ مضامین

بھارت کی لوک سبھا نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک بھر میں طلبہ کے کئی ہفتوں تک جاری احتجاج اور سابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے۔

نئے قانون کے تحت امتحانی پرچے لیک کرنے یا منظم امتحانی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو اب زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ جرمانے کی حد بھی بڑھا کر 10 لاکھ ڈالر سے زائد کر دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، لوک سبھا میں اس بل پر کئی گھنٹے تک گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد اسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اب یہ بل منظوری کے لیے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، جہاں حکمران اتحاد کو اکثریت حاصل ہے۔

طلبہ کے احتجاج نے حکومت کو جھکا دیا

یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا جب امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبے پر ملک بھر میں نوجوانوں کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری رہا۔ ان مظاہروں کے دباؤ کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔

احتجاجی تحریک کی قیادت “کاکروچ جنتا پارٹی” کر رہی تھی، جسے ہزاروں طلبہ کی حمایت حاصل رہی۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ بار بار پرچے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

حکومت کا مؤقف

وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے بل کی منظوری کو امتحانی نظام کی شفافیت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کے تحت فاسٹ ٹریک عدالتیں، مقررہ مدت میں تحقیقات، خصوصی سرکاری وکلا اور تیز رفتار اپیل کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ امتحانی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو جلد سزا دی جا سکے۔

سینئر وزیر جتیندر سنگھ کا کہنا تھا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور نئی قانون سازی اسی عزم کا مظہر ہے۔

اپوزیشن بھی طلبہ کے ساتھ

اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق، “یہ صرف غصہ نہیں تھا بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ایک مضبوط پیغام تھا، جس کا احترام ہر سیاسی جماعت کو کرنا چاہیے۔”

احتجاج، جھڑپیں اور گرفتاریاں

20 جولائی کو نئی دہلی میں احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مظاہرین نے جنتر منتر سے پارلیمان کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے انہیں منتشر کیا، جس کے دوران متعدد افراد زخمی اور کئی مظاہرین گرفتار ہوئے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر اور بغیر کسی مجرمانہ ریکارڈ والے زیرِ حراست طلبہ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

تحریک کی نئی وارننگ

کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر گرفتار طلبہ کے خلاف کارروائیاں بند نہ کی گئیں اور تعلیمی اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہوا تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا، “یہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، اگر حکومت نے ان کی بات نہ سنی تو ہم ایک بار پھر احتجاج کریں گے۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں