ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی مؤقف کا بنیادی حصہ ہے اور اس مسئلے کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی آزاد مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان رشتہ تاریخی، جغرافیائی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہے۔ ان کے مطابق تقسیمِ ہند کا ایجنڈا اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری حالات کے باعث ہزاروں کشمیری اپنے گھروں سے بےدخل ہوئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں موجود جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔
آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کسی گروہ کو اپنے مطالبات یا تحفظات ہیں تو انہیں جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج یا دباؤ کے بجائے انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلی کے ذریعے عوامی آواز بلند کرنا ہی درست طریقہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور وہاں ترقی، فلاح اور عوامی سہولیات کے لیے ریاست خصوصی توجہ دیتی ہے۔
دہشت گردوں کے لیے صرف دو راستے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون شکن عناصر کے پاس صرف دو راستے ہیں؛ یا تو وہ ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے سرنڈر کریں یا پھر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں بلوچستان میں 31 ہزار جبکہ خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 کارروائیاں شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 سکیورٹی اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 2,084 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں تقریباً روزانہ 10 دہشت گرد مارے گئے۔ اس سال 28 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ٹانک اور کراچی میں ہونے والے حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ریاست، آئین اور قانون پر زور
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں اور ریاستی نظام اسی دائرے میں چلتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ہارڈ اسٹیٹ” کا مطلب فوجی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کی بلاامتیاز عملداری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کی اولین ذمہ داری ریاست سے وفاداری ہے، کیونکہ ریاست ہی قومی سلامتی، سیاست اور اداروں کی بنیاد ہے، اور پاکستان ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے۔