ایمیزون کی خودکار گاڑیوں کی کمپنی Zoox نے امریکا میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز کے بغیر چلنے والی روبو ٹیکسیوں کے محدود تجارتی استعمال کی وفاقی منظوری حاصل کر لی ہے۔
امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) نے کمپنی کو اجازت دی ہے کہ وہ ریاستی اور مقامی منظوری ملنے کے بعد اپنی خودکار ٹیکسی سروس کے لیے مسافروں سے کرایہ وصول کر سکے۔ اس منظوری کے ساتھ Zoox کو ان وفاقی قوانین سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے جو گاڑیوں میں انسانی کنٹرول، جیسے اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز، لازمی قرار دیتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں Zoox اپنی تجارتی سروس لاس ویگاس میں شروع کرے گی، جبکہ آئندہ دو برسوں میں کمپنی کو ہر سال 2,500 روبو ٹیکسیاں سڑکوں پر لانے کی اجازت دی گئی ہے۔
NHTSA کا کہنا ہے کہ Zoox کے خودکار نظام نے مطلوبہ حفاظتی معیار پورے کیے ہیں، تاہم کمپنی کی سرگرمیوں پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی اور حادثات یا سڑک پر غیر ضروری طور پر رک جانے جیسے واقعات کی تفصیلی رپورٹنگ بھی لازمی ہوگی۔
Zoox کی روبو ٹیکسیاں روایتی گاڑیوں سے بالکل مختلف ڈیزائن رکھتی ہیں۔ ان میں نہ ڈرائیور کی نشست موجود ہے، نہ اسٹیئرنگ وہیل اور نہ ہی پیڈلز۔ گاڑی کے اندر مسافروں کی نشستیں ایک دوسرے کے سامنے نصب ہیں، جبکہ یہ گاڑیاں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رفتار حاصل کر سکتی ہیں۔
کمپنی گزشتہ سال سے لاس ویگاس اور سان فرانسسکو میں مفت آزمائشی سواریاں فراہم کر رہی تھی، اور اب جلد ہی باضابطہ کرایہ وصول کرنا شروع کرے گی۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ مکمل خودکار گاڑیوں کو عوامی سڑکوں پر چلانا اب بھی حفاظتی خدشات سے خالی نہیں۔ حالیہ مہینوں میں Zoox نے دھوئیں کی شناخت سے متعلق سافٹ ویئر مسئلے کے باعث اپنی 105 روبو ٹیکسیوں کو واپس بلا کر اپ ڈیٹ بھی کیا تھا۔
Zoox اس وقت Waymo اور Tesla کے ساتھ خودکار ٹیکسیوں کی دوڑ میں شامل ہے۔ Waymo پہلے ہی امریکا کے کئی شہروں میں اپنی سروس چلا رہی ہے، جبکہ Amazon مستقبل میں سالانہ 10 ہزار روبو ٹیکسیاں تیار کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔