ایک بیان، کئی سوال! کیا ملک میں نیا سیاسی بحران جنم لے رہا ہے؟

فہرستِ مضامین

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے ملک میں نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر متنازع بیانات کے ذریعے سیاسی ماحول کو خراب کرنے اور ملک میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے صدر مملکت سے ملاقات کی اور اس کے فوراً بعد ایسا بیان دیا جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو ملک کے سیاسی ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے اس کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے الزام عائد کیا کہ ملک میں ایک منظم سازش کے تحت انتظامی تقسیم کے نام پر نئے تنازعات کو جنم دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر انتظامی یونٹ کو الگ صوبہ بنانے کی منطق اپنائی جائے تو پھر درجنوں نئے صوبے اور اتنے ہی نئے وزرائے اعلیٰ درکار ہوں گے، جو نہ صرف عملی طور پر مشکل ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نثار کھوڑو نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام اپنی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور جو بھی قوتیں صوبے کی تقسیم کی بات کریں گی، انہیں سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی اس معاملے پر پارٹی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے واضح طور پر نئے صوبوں کے قیام کے خلاف ہیں، اس لیے سندھ میں کسی نئے صوبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی نے نئے صوبوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں کے عوام اور سیاسی قیادت اس معاملے پر متفق ہیں، لہٰذا اگر پنجاب میں انتظامی ضرورت کے تحت نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو یہ وہاں کا فیصلہ ہوگا، تاہم سندھ پر ایسا کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ سندھ کی جغرافیائی اور انتظامی وحدت ہر صورت برقرار رہنی چاہیے اور اس حوالے سے کسی بھی تجویز یا بیان کو عوامی امنگوں کے منافی قرار دیا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں