اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی نظام میں بنیادی اصلاحات اور مؤثر تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آئینی اور جمہوری راستہ پارلیمنٹ اور کابینہ سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ صرف عوامی تقاریر سے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے ملکی نظام کی خامیوں سے متعلق اظہارِ خیال سنا ہے اور وہ ذاتی طور پر ان کے کئی نکات سے اتفاق بھی کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی خود بھی ریاستی نظام کے اہم اور بااختیار رکن ہیں، اس لیے اگر وہ تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کے لیے موجودہ آئینی اداروں کو فعال بنانا ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ وہ فورمز ہیں جہاں نظام میں اصلاحات سے متعلق مؤثر قانون سازی اور فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کابینہ میں زیرِ بحث لانے سے نہ صرف ادارے مضبوط ہوں گے بلکہ ہر تبدیلی آئین اور جمہوری عمل کے مطابق آگے بڑھے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ملکی نظام کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے زیر اثر رہا ہے، جس سے اسے آزاد کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، نہ کہ انہیں نظر انداز کیا جائے۔
انہوں نے محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاسوں میں شاذ و نادر ہی شریک ہوتے ہیں، جبکہ ایسے اہم قومی معاملات پر صرف تاجر برادری سے خطاب کرنا مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ ان کے بقول قومی سطح کی اصلاحات کے لیے منتخب اداروں کو مرکزی کردار دینا ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع نے یاد دلایا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے اہم سرکاری ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، اس دوران اگر وہ چاہتے تو نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر سکتے تھے، تاہم اگر اب بھی اصلاحات کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت ہوتی ہے تو اسے خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں نیشنل ایکشن پلان کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کے 13 نکات کا ذکر کیا تھا۔ ان کے مطابق ان میں سے ایک نکتے پر مسلح افواج اپنی جانوں کی قربانی دے کر عملدرآمد کر رہی ہیں، جبکہ باقی 12 نکات پر عملدرآمد وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، جہاں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔
انہوں نے محسن نقوی پر زور دیا کہ اگر وہ واقعی نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تو اس کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور عملی اصلاحات کے ذریعے مثال قائم کریں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صرف کاروباری طبقہ ہی نہیں بلکہ پوری قوم مثبت اور مؤثر تبدیلی کی حمایت کرے گی۔