کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے بہادر آباد مرکز میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت ارکان رابطہ کمیٹی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان بھی بہادر آباد مرکز میں موجود تھے۔ اجلاس کے دوران شروع ہونے والی کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے تصادم کی شکل اختیار کر لی، جس کے بعد پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی بہادر آباد مرکز پہنچ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھگڑے کے بعد کنوینر خالد مقبول صدیقی کے قریبی رہنما اور حامی مرکز کے ساتھ واقع پارک میں جمع ہوگئے، جہاں صورتحال خاصی کشیدہ رہی اور مختلف گروپوں کے درمیان نعرے بازی بھی کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق تصادم کے دوران پارٹی کے ایک گروپ نے دوسرے گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ تلخ رویہ اختیار کیا، جبکہ ہاتھا پائی کے واقعات بھی پیش آئے۔
ذرائع کے مطابق جھگڑے کے دوران ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ایک سینئر رکن کو دھکے دیے گئے، جبکہ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی بھی اس ہنگامے کی زد میں آئیں اور انہیں بھی دھکا دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد بہادر آباد مرکز میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، جبکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت صورتحال کو قابو میں لانے اور اختلافات کم کرنے کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔
تاحال ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت اندرونی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔