سعودی عرب کے شہر جدہ میں بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کا آغاز ہوگیا، جہاں دنیا کے 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے 120 باصلاحیت طلبہ شریک ہیں۔ اس بین الاقوامی مقابلے کا مقصد نوجوانوں کی سائنسی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں نیوکلیئر سائنس کے شعبے میں عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب میں جدہ کے گورنر شہزادہ سعود بن عبداللہ بن جلاوی، وزیر تعلیم یوسف البنیان اور متعدد سائنسی و تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں مواہبہ فاؤنڈیشن، شاہ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوایبل انرجی اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کے وفود بھی موجود تھے، جو نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔
یہ اولمپیاڈ دنیا بھر کے ہائی اسکول طلبہ کو نیوکلیئر سائنس کے میدان میں اپنی معلومات اور مہارتیں بڑھانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے طلبہ نہ صرف جدید سائنسی علوم سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ مختلف ممالک کے نوجوان محققین کے ساتھ تعاون اور تجربات کے تبادلے کا بھی موقع حاصل کرتے ہیں۔
وزیر تعلیم یوسف البنیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ایونٹ کا انعقاد سعودی قیادت کی بھرپور حمایت اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کا عملی اظہار ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور تحقیق کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مملکت کی جانب سے بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کی میزبانی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب 2024 میں انٹرنیشنل کیمسٹری اولمپیاڈ اور 2025 میں ایشین فزکس اولمپیاڈ کی کامیاب میزبانی بھی کر چکا ہے۔
بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ مایا سعید الازری نے کہا کہ یہ مقابلہ مستقبل کے جوہری سائنسدانوں اور انجینئرز کی تربیت کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ہے۔ ان کے مطابق اس ایونٹ کی میزبانی سعودی عرب کے سائنسی سفر میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے عزم کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اب تک بین الاقوامی سائنسی اولمپیاڈز میں پانچ اعزازات اپنے نام کر چکا ہے، جن میں ایک چاندی اور تین کانسی کے تمغے شامل ہیں، جبکہ مملکت مستقبل میں بھی عالمی سائنسی سرگرمیوں میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔