اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے موجودہ انتظامی نظام پر سوالات اٹھا دیے۔
پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، لیکن انتظامی ڈھانچہ اب بھی محدود تعداد میں صوبوں تک ہی قائم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی آبادی جب تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ تھی، تب بھی چار صوبے تھے اور آج آبادی ساڑھے 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر صوبوں کی تعداد وہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق ہر سال صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے فراہم کرتا ہے، جو چار وزرائے اعلیٰ کے پاس چلا جاتا ہے، تاہم اس رقم کو یونین کونسلز کی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا نظام موجود نہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کئی ممالک سے بڑے ہیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان بھی رقبے کے لحاظ سے متعدد ممالک سے بڑے ہیں۔ ان کے بقول صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ملک تقسیم نہیں ہوتا بلکہ انتظامی معاملات بہتر ہونے سے ریاست مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی کے واقعات جاری ہیں اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود نظام اور انتظامی ڈھانچے کو بھی بنیادی سطح پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبوں کی حدود یا نئے صوبوں کی بات آئے تو اسے عزت اور غیرت کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھوتے ہیں تو اس وقت کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف طویل اوقات میں کام کر رہے ہیں اور وزیراعظم کی ذمہ داری ہر گٹر پر ڈھکن لگانا نہیں بلکہ ایسا مؤثر نظام قائم کرنا ہے جس میں بنیادی مسائل خود بخود حل ہوں۔
مصطفیٰ کمال نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر موجودہ مسائل کا آئینی حل تلاش کریں اور ملک کے انتظامی نظام میں ضروری اصلاحات لانے پر سنجیدگی سے غور کریں۔