ایران کو کمزور کرنے کی کوشش الٹی پڑ گئی؟ نارویجن وزیر خارجہ کا دعویٰ

فہرستِ مضامین

اوسلو: ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اپنے ابتدائی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور ایران کو کمزور کرنے کے بجائے وہاں موجود سخت گیر عناصر کو مزید تقویت ملی۔

عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نارویجن وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے خیال میں آنے والے وقت میں تاریخ اس جنگ کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کرے گی کہ جنگ اپنے بنیادی اہداف حاصل نہیں کر سکی۔

ایسپن بارتھ ایڈے کے مطابق جنگ کے نتیجے میں ایران کے اندر موجود سخت گیر حلقے کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوئے ہیں، جس سے خطے میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

نارویجن وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ناروے نے جنگ کے آغاز ہی سے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ تو ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا اور نہ ہی اسے بین الاقوامی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنازع کے حل کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اکثر اصل مقاصد کے برعکس نتائج سامنے لا سکتی ہے۔

ایسپن بارتھ ایڈے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے حوالے سے عالمی سطح پر سفارتی، سیاسی اور سکیورٹی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فوجی دباؤ کے ذریعے کسی ملک کے اندر سیاسی تبدیلی یا مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان نہیں۔

نارویجن وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے، جبکہ ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں