امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں غزہ سے متعلق امریکی منصوبے اور جنگ بندی کے تعطل پر بات چیت کی گئی۔
یہ ملاقات کشنر کی قاہرہ میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کے ایک روز بعد ہوئی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کشنر کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا مقصد ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے واپس جائے گی۔ منصوبے میں علاقے میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔
تاہم نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل انخلا اسی صورت کرے گی جب حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے۔ سفارت کاروں کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے غزہ کے معاملے پر بڑی رعایت دینے کے امکانات محدود ہیں۔
کشنر کے ساتھ کون موجود تھا؟
دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ نیتن یاہو سے ملاقات میں کشنر کے ساتھ نکولائی ملاڈینوف بھی موجود تھے، جو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے ایلچی ہیں۔
ملاڈینوف اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار رہ چکے ہیں اور غزہ میں جنگ کے خاتمے اور ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ حماس نے امریکا کی حمایت یافتہ 15 نکاتی حکمت عملی پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد غزہ منصوبے پر پیش رفت ایک بار پھر تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
کشنر کی حماس سے دوسری ملاقات
قاہرہ میں کشنر کی حماس کے نمائندوں سے حالیہ ملاقات ان کی اس گروپ کے ساتھ دوسری معلوم ملاقات ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں انہوں نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے ہمراہ حماس کے عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے نے غزہ میں جنگ بندی اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے باقی افراد کی رہائی کی راہ ہموار کی تھی۔
ٹرمپ نے جولائی کے اواخر میں دعویٰ کیا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، غزہ سے فوج واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہے۔
یوں کشنر کی حماس سے ملاقات کے فوراً بعد نیتن یاہو سے ملاقات نے غزہ کے مستقبل، اسرائیلی انخلا اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر جاری سفارتی کوششوں کو ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔