لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کے اپنے صوبے میں ایک سڑک کے منصوبے میں 8 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات سامنے آئیں، وہ پنجاب سے سوال کریں گے؟
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ سے کسی کو مخالفت نہیں، تاہم بغیر ثبوت کرپشن کے الزامات عائد کرکے پریس کانفرنسز کی جائیں تو ان پر سوال اٹھانا سیاسی انتقام کیسے ہوسکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پنجاب حکومت کی کارکردگی طعنے کے طور پر محسوس ہوتی ہے تو کارکردگی پر بات ضرور ہوگی۔ ان کے مطابق بغیر ثبوت کرپشن کے الزامات لگانے والوں کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سندھ میں الیکٹرک پنکھوں سے لے کر امتحانی مراکز تک مبینہ طور پر بکنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے سندھ حکومت کو پنجاب سے سوال کرنے سے پہلے اپنے صوبے کے معاملات دیکھنے چاہئیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اسکینڈلز سندھ میں سامنے آتے ہیں، پنجاب میں نہیں، جبکہ پنجاب میں کسی بے ضابطگی کی نشاندہی ہو تو وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم خود معاملہ سامنے لاتی ہے اور ذمہ داروں کو تحفظ نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔