عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم، سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

فہرستِ مضامین

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج اور طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

منگل کو عمران خان کے علاج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ہسپتال انتظامیہ کو ان کے طبی معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ ہسپتال منتقلی کے دوران سکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

عدالتی حکم کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کی صحت انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو دو دن کے اندر شفا ہسپتال منتقل کرنے اور ماہر ڈاکٹروں کا بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔

انجیوگرافی اور طبی ریکارڈ

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں انجیوگرافی کی سہولت دستیاب ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ یہ طبی طریقہ کار جیل کے بجائے بیرونی ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔

عدالت نے عمران خان کی طبی صورتحال سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کیا۔

اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کا معاملہ

سپریم کورٹ نے عمران خان کی بہنوں اور بچوں سے گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے اور ریاست کو قانون کی خلاف ورزی سے گریز کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

علاج کو سیاسی معاملہ نہ بنانے کی ہدایت

عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان کے علاج اور طبی صورتحال کو کسی صورت سیاسی معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی کے معاملے پر عدالت نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہلِ خانہ سے باضابطہ بیانِ حلفی جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

زیرِ التوا مقدمات کی تفصیلات طلب

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف زیرِ التوا مقدمات، سزا یافتہ کیسز اور معطل شدہ سزاؤں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں