امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کُشنر نے کہا ہے کہ غزہ میں امن منصوبے پر پیش رفت اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل آئندہ ایک ماہ کے دوران شروع ہو سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیرڈ کُشنر نے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد تل ابیب میں فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
جیرڈ کُشنر کا کہنا تھا کہ انہیں اگلے 30 دن میں پیش رفت کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اس دوران حماس کے کچھ ہتھیار ہٹانے اور غزہ میں موجود سرنگوں کو بند کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کی نگرانی کون کرے گا؟
رپورٹ کے مطابق جیرڈ کُشنر اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کی تصدیق ایک امریکی جنرل کرے گا۔
ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک کوئی اسرائیلی فوجی غزہ سے باہر نہیں جائے گا۔
سینیئر اسرائیلی حکام کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ پورے غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے سے قبل علاقے میں نئی تعیناتی یا تعمیر نو کا عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔
امریکی جنرل کی نگرانی میں ہتھیار حوالے کرنے کی تجویز
اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ کو غیر فوجی بنانے کی جانب پہلا قدم حماس کی جانب سے اپنے ہتھیار ایک امریکی جنرل کی نگرانی میں حوالے کرنا ہوگا۔
30 جولائی کو حماس کی جانب سے پیش کیے گئے روڈ میپ میں ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کی نگرانی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس نئے فورس یونٹ کی تعیناتی غزہ میں حالات معمول پر آنے کے بعد متوقع ہے اور اس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کر رہے ہیں۔
حماس اس سے قبل اپنے ہتھیار ایک نئی فلسطینی گورننگ باڈی کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے، تاہم بنیامین نیتن یاہو نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اسے اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
ہتھیار مکمل طور پر ناکارہ بنانے کی تجویز
صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ سے وابستہ ایک اہلکار کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کے دوران جمع کیے جانے والے تمام ہتھیار مکمل طور پر ناکارہ بنا دیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے۔
اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا اور اگر حماس دوبارہ تشدد، دہشت گردی یا مسلح ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اسرائیل کو اس کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہوگا۔
جیرڈ کُشنر نے نیتن یاہو سے ملاقات سے ایک روز قبل مصر میں حماس کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں بھی شرکت کی تھی۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور اسرائیلی وزیراعظم کے دیرینہ خاندانی دوست ہیں۔
مذاکرات میں شامل ’بورڈ آف پیس‘ کے دیگر ارکان میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔