ٹرمپ کی خارجہ پالیسی: ماسٹر پلان یا ایک کے بعد ایک بڑی غلطی؟

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین کے مطابق ان کی خارجہ پالیسی مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ تاہم ٹرمپ اب بھی جارحانہ انداز میں بڑے فیصلے اور دھمکیاں دینے سے گریز نہیں کر رہے۔

ایران کے ساتھ ان کا طویل عرصے سے تعطل کا شکار مفاہمتی معاہدہ پیر کو اپنی 60 روزہ مدت پوری کر گیا۔ ایک ایسے ممکنہ جوہری معاہدے کا جشن منانے کے بجائے جو ایران کے خلاف جنگ کو سیاسی جواز فراہم کر سکتا تھا، ٹرمپ نے اپنی ناراضی کا رخ امریکا کے بعض اتحادیوں کی طرف موڑ دیا۔ اسی دوران انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات دوبارہ بہتر بنانے کا عندیہ بھی دیا۔

اتوار کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں کمی کرے گا۔ جنوبی کوریا 1950 کی دہائی سے امریکا کا اہم اتحادی ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجوہات میں فوجی مشقوں کے اخراجات، ایران کے خلاف جنگ میں سیئول کی عدم شرکت اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو ناراض نہ کرنے کی خواہش شامل کی۔

پیر کے روز ٹرمپ نے عمان کو بمباری کی دھمکی بھی دے دی۔ بظاہر ان کی ناراضی کی وجہ یہ تھی کہ عمان ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مسئلہ اس مفاہمتی یادداشت کی شرائط میں بھی شامل تھا جسے ٹرمپ کبھی مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امن معاہدہ قرار دے چکے تھے۔

یوں ایک بار پھر ٹرمپ امریکی طاقت اور خارجہ پالیسی کے ان روایتی اصولوں کو الٹتے دکھائی دے رہے ہیں جنہیں دنیا کئی دہائیوں سے امریکی سفارت کاری کی بنیاد سمجھتی رہی ہے۔

امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ایڈمرل جیمز اسٹاوریڈس نے CNN سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم جونگ اُن کے قریب جانے اور عمان کو بمباری کی دھمکی دینے کی منطق سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں امریکا کو اس کے بالکل برعکس اقدامات کرنے چاہییں۔

عمان اور جنوبی کوریا صرف دو واقعات نہیں

عمان اور جنوبی کوریا کے خلاف ٹرمپ کا سخت رویہ الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ان کی وسیع تر خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پالیسی میں روایتی حکمتِ عملی کے بجائے غیر متوقع فیصلوں، دھمکیوں اور ذاتی تعلقات کو خاص اہمیت حاصل دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ سفارت کاروں اور خارجہ امور کے ماہرین کو اکثر پسِ پشت رکھتے ہیں اور عالمی رہنماؤں کو اس بنیاد پر جانچتے نظر آتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقتور حکمرانوں کے ساتھ براہِ راست تعلقات بڑے سفارتی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی طرح وہ امریکا کے اتحادیوں کو روایتی طور پر امریکی طاقت کو بڑھانے والے شراکت داروں کے بجائے ایسے ممالک کے طور پر دیکھتے ہیں جنہیں امریکی سکیورٹی کی ضمانت کے بدلے زیادہ مالی اور عسکری بوجھ اٹھانا چاہیے۔

ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ریلی میں دعویٰ کیا کہ امریکا کو دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ عزت حاصل ہے۔ تاہم ان کی دوسری مدتِ صدارت میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور انتشار اس دعوے کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

سابق اعلیٰ امریکی سفارت کار کرسٹوفر ہل کے مطابق ٹرمپ کی پہلی مدت میں انہیں غیر متوقع رہنما سمجھا جاتا تھا، لیکن دوسری مدت میں خطرہ یہ ہے کہ دنیا انہیں غیر قابلِ اعتماد سمجھنے لگے۔

ایران کی جنگ ٹرمپ کی حکمتِ عملی کا امتحان

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کمزوری سب سے زیادہ ایران کے معاملے میں نمایاں ہو رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہی ہے، لیکن جنگ سے پہلے کی صورتحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ بالخصوص آبنائے ہرمز اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ ایران مستقبل میں دوبارہ لڑائی کے لیے تیاری کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تہران نے بڑے پیمانے کی لڑائی میں وقفے کو میزائل اور ڈرون کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر جنگ کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور خطے میں امریکی شرائط منوانا تھا تو کیا واشنگٹن واقعی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکا ہے؟

جنوبی کوریا پر دباؤ اور کم جونگ اُن پر اعتماد

جنوبی کوریا کے خلاف ٹرمپ کا رویہ بھی خاصا حیران کن ہے۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں تھے، حالانکہ جنوبی کوریا میں ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے یہاں تک سوال کیا کہ اگر امریکا جنوبی کوریا کی مدد کر رہا ہے تو پھر امریکا کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جنوبی کوریا کی مدد کیوں کی جائے۔

یہ مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کہ جنوبی کوریا رواں سال امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ ادا کرنے والا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی حال ہی میں جنوبی کوریا کو اتحادیوں کی جانب سے دفاعی بوجھ بانٹنے کی ایک مثال قرار دے چکے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ذاتی تعلقات کو اہمیت دے رہے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کم نے ہمیشہ ان کے ساتھ احترام سے پیش آ کر بات کی، وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور ان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں کم جونگ اُن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں زیادہ تر علامتی کامیابیوں تک محدود رہیں۔ شمالی کوریا نے اس کے بعد اپنے جوہری اور میزائل پروگرام مزید آگے بڑھائے، روس اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے اور یوکرین جنگ میں روس کو بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی مدد فراہم کی۔

اس کے باوجود ٹرمپ کم کے ساتھ اپنی ذاتی کیمسٹری کو اہم سمجھتے ہیں۔

یہ پہلا موقع بھی نہیں کہ ٹرمپ نے کسی طاقتور آمر کے ساتھ ذاتی تعلقات پر بھروسہ کیا ہو۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کو قبول نہیں کیا، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے تجارتی جنگ میں امریکا کو کئی مواقع پر سخت جواب دیا۔

امریکا کی عالمی ساکھ کو خطرہ؟

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت دھمکیوں اور پھر تیزی سے مؤقف نرم کرنے کے عمل نے امریکی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

یورپ کے ساتھ امریکا کے تعلقات دوسری عالمی جنگ کے بعد بدترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا جیسے اہم اتحادی پر دباؤ نے مشرقی ایشیا میں امریکی دفاعی وعدوں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر بحث چھیڑ دی ہے۔

اس تناظر میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلسل دھمکیوں، اچانک پالیسی تبدیلیوں اور ذاتی تعلقات پر انحصار سے امریکا کی عالمی طاقت مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہو سکتی ہے۔

مگر ٹرمپ کے حامی اسے ناکامی نہیں سمجھتے

تاہم ٹرمپ کے حامیوں کے نزدیک یہ تنقید بنیادی طور پر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا مقصد روایتی امریکی خارجہ پالیسی کو جاری رکھنا ہی نہیں بلکہ اسے تبدیل کرنا ہے۔

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ امریکا کے اتحادی طویل عرصے سے واشنگٹن سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور بین الاقوامی ادارے امریکی طاقت کو محدود کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ آزاد تجارت کے روایتی تصور کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اسے امریکی ملازمتوں کے بیرونِ ملک منتقل ہونے سے جوڑتے ہیں۔

اپنے سیاسی معیار کے مطابق ٹرمپ نے بعض کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے مغربی نصف کرہ میں قوم پرست اور عوام پسند حکومتوں کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں، کیوبا پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

اگر غزہ کے حوالے سے ان کی سفارتی کوشش کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح نیٹو اتحادیوں پر زیادہ دفاعی اخراجات کے لیے دباؤ ڈالنا بھی ٹرمپ کی پالیسی کی ایک نمایاں کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں مستقبل میں ایک زیادہ مضبوط مغربی دفاعی اتحاد تشکیل پائے۔

اصل سوال: طاقتور امریکا یا غیر قابلِ اعتماد امریکا؟

ٹرمپ انتظامیہ کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی کا مؤقف ہے کہ امریکا اب بھی قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، لیکن وہ اپنے مفادات کے لیے پہلے سے زیادہ سخت شرائط عائد کر رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ پالیسی ’’امریکا پہلے‘‘ کے اصول اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی پر مبنی ہے۔

اصل خطرہ شاید یہی ہے کہ ٹرمپ جس غیر روایتی اور لین دین پر مبنی خارجہ پالیسی کو امریکی طاقت کی علامت سمجھتے ہیں، وہی پالیسی واشنگٹن کی عالمی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

ایران کی جنگ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کیے بغیر طول پکڑتی ہے، جنوبی کوریا جیسے اتحادیوں کے ساتھ اختلافات بڑھتے ہیں، شمالی کوریا مزید طاقتور ہوتا ہے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کمزور پڑتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ ان کی ’’غیر متوقع‘‘ خارجہ پالیسی دراصل کامیاب حکمتِ عملی ہے۔

بالآخر سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ کیا ٹرمپ اپنے اتحادیوں کو زیادہ ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کر کے امریکا کو مضبوط بنا رہے ہیں، یا مسلسل دھمکیوں اور اچانک پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے امریکا کے دیرینہ اتحاد اور عالمی اعتماد کو کمزور کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں