زور زبردستی قبول نہیں! نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کا اہم مؤقف سامنے آگیا

فہرستِ مضامین

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون جاری رکھنا مشکل ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں ہرایا گیا اور اگر مسلم لیگ ن کو ایسا متنازع الیکشن ہی چاہیے تھا تو اسے مبارک ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو بات چیت ضرور ہوگی، تاہم پیپلز پارٹی کو انصاف ملنے تک حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا جائے گا۔ بلاول کے مطابق اتحادی جماعت کے ساتھ ایسا رویہ قابل قبول نہیں جو آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران اختیار کیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات اور سکیورٹی خدشات پہلے ہی سامنے رکھ دیے تھے۔ ان کے مطابق مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے امیدوار پر حملہ بھی ہوا، اس لیے کشمیر میں ایک متنازع انتخابی عمل کے نتیجے میں بننے والی حکومت عوام کے مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کرسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ’’حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی‘‘ کے منشور کے ساتھ الیکشن لڑ کر آئے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ پیپلز پارٹی حکومتی بینچوں پر بیٹھے اور دوسری جانب اس کے کارکنوں کی جانیں جاتی رہیں۔

نئے صوبوں پر عوامی رائے فیصلہ کن ہوگی

نئے صوبوں کے معاملے پر بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی اصولی طور پر مخالف نہیں اور وہ عوام کی خواہش کے خلاف کوئی مؤقف اختیار نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے بارے میں عوام جو فیصلہ کریں گے، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

بلاول نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے نہ پہلے زور زبردستی کو قبول کیا اور نہ آئندہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں سیاسی اتفاق رائے موجود ہو وہاں فیصلے اتفاق رائے سے ہونے چاہئیں، جبکہ اختلاف کی صورت میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

عمران خان کے علاج سے متعلق بھی اظہار خیال

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں عمران خان کا علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوں۔

اپوزیشن سے رابطوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔

بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو اہمیت دی ہے اور خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئیں۔ ان کے مطابق پارلیمان کو مؤثر بنانے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کا فعال ہونا ضروری ہے اور ان میں اپوزیشن کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کے لیے بھی مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن انتخابی عمل میں بہتری چاہتی ہے تو اصلاحات کے لیے پارلیمان میں آ کر کردار ادا کرے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں