سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہوا؟ پی ٹی آئی کا احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیے جانے کے معاملے پر قانونی اور سیاسی محاذ پر کارروائی تیز کرنے کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی، جبکہ ملک گیر احتجاجی تحریک میں بھی مزید شدت لائی جائے گی۔

پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

رات بھر انتظار، پھر شفا منتقلی کا فیصلہ تبدیل

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق انہیں رات تقریباً سوا 8 بجے اڈیالہ جیل پہنچنے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد وہ متبادل راستے سے رات ساڑھے 12 بجے کے قریب پمز اسپتال پہنچیں، جہاں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ گھنٹوں انتظار کے بعد صبح کے وقت انتظامیہ نے انہیں واپس جانے کو کہا اور بتایا کہ عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ ہوچکا ہے، اس لیے اب انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ پمز میں عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹر نے مزید ایک خصوصی ٹیسٹ تجویز کیا تھا۔ ان کے مطابق انہیں توقع تھی کہ اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو شفا منتقل کیا جائے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

عمران خان نے کیا شکایت کی؟

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق ملاقات کے دوران عمران خان نے انہیں بتایا کہ انہیں طویل عرصے سے ٹی وی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مطالعے کے لیے بھی مناسب مواد دستیاب نہیں۔

ان کے بقول عمران خان نے تنہائی کے باعث ذہنی دباؤ اور ہائپر ٹینشن کی شکایت بھی کی اور کہا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر اس قدر پُرامید تھیں کہ اپنا سوٹ کیس بھی تیار کرکے ساتھ لے گئی تھیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان بھی کئی گھنٹے منتظر رہے

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ انہیں رات تقریباً سوا 12 سے ساڑھے 12 بجے کے درمیان طلب کیا گیا، جس کے بعد وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچے۔

ان کے مطابق وہ تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹے ہسپتال میں انتظار کرتے رہے، تاہم صبح ساڑھے 4 بجے انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو ہسپتال نہیں لایا جا رہا، اس لیے وہ واپس چلے جائیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ رابطے کے مناسب ذرائع اور موبائل فون ساتھ نہ ہونے کے باعث وہ اس دوران صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہو سکے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا حکومت پر شدید ردعمل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان کو شفا منتقل نہ کیے جانے پر حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کے علاج اور طبی معائنے سے متعلق واضح حکم دیا ہے تو انتظامیہ اس پر عمل درآمد سے کیوں گریز کر رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکتیں تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے؟

انہوں نے موجودہ طرزِ عمل کو آئین اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس معاملے کو عدالت میں بھی اٹھائے گی۔

ملک گیر احتجاجی تحریک مزید تیز کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اپنی احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائے گی اور وہ آئندہ دنوں میں ملک بھر کا دورہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ملاقات، طبی سہولیات اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے قانونی جدوجہد بھی جاری رہے گی اور سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ بھی تیز کیا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں