اسلام آباد: حکومت نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھنے، ذہنی و جسمانی تشدد کرنے اور طبی سہولیات فراہم نہ کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ عمران خان کو کسی حکومتی حکم کے تحت نہیں بلکہ عدالتی فیصلوں اور قانونی طریقہ کار کے نتیجے میں بطور سزا یافتہ قیدی جیل میں رکھا گیا ہے۔
حکومتی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے حکام پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو عدالتی حکم کے مطابق شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز لے جایا گیا۔
پمز منتقلی پر اختلاف
عظمیٰ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ عمران خان سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے ڈیتھ سیل اور تنہائی میں رکھے جانے کی شکایت کی، جسے ان کے بقول ذہنی اذیت کا سبب قرار دیا گیا۔
دوسری جانب عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ وہ عدالتی حکم کے تحت شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے طبی معائنے کے لیے انتظار کرتے رہے، تاہم بعد میں انہیں اطلاع دی گئی کہ عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹروں کے پینل نے عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں جیل واپس منتقل کیا گیا۔
حکومت کا ملاقاتوں اور طبی سہولیات کا ریکارڈ
وزارتِ اطلاعات کے مطابق اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان کی اہلخانہ، وکلا، ڈاکٹروں اور سیاسی رہنماؤں سے 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کے علاوہ پاکستان اور بیرونِ ملک موجود رشتہ داروں سے فون اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ حکام کے مطابق 21 مارچ کو ان کی اپنے بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کروائی گئی، جبکہ 18 اور 19 اگست کو ان کی بہنوں نے جیل میں ملاقات کی۔
حکومتی بیان کے مطابق عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے، جہاں سونے، واش روم اور ورزش سمیت ضروری سہولیات موجود ہیں۔ انہیں ان کی پسند کے مطابق خصوصی خوراک بھی فراہم کی جاتی ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق جیل کے ڈاکٹر کے علاوہ پمز، شفاء انٹرنیشنل، شوکت خانم اور دیگر ہسپتالوں کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈز عمران خان کا تقریباً 30 مرتبہ طبی معائنہ کرچکے ہیں۔
حکومت نے عظمیٰ خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود بتایا تھا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 120/80 ہے اور آنکھ کا علاج مکمل ہوچکا ہے۔
پمز منتقل کرنے کی حکومتی وجہ کیا ہے؟
حکام کے مطابق شفاء انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقل کرنے کا فیصلہ سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا، کیونکہ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کو سیاسی سرگرمیوں یا پیغامات کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔