امریکا میں بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر معروف ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کردی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کارروائی ’چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ‘ (COPPA) کے تحت ہونے والے بڑے معاہدوں میں شامل ہے۔
امریکی قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے پر پابندی عائد ہے۔ تاہم امریکی حکام کا الزام ہے کہ ٹک ٹاک نے والدین کو مناسب طور پر آگاہ کیے بغیر لاکھوں بچوں کا ذاتی ڈیٹا جمع اور استعمال کیا۔
امریکی محکمہ انصاف اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے 2024 میں دائر مشترکہ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹک ٹاک کی پالیسیوں نے کم عمر صارفین کی پرائیویسی اور تحفظ کو خطرے میں ڈالا۔
تصفیے کے تحت ٹک ٹاک کو 300 ملین ڈالر فوری طور پر ادا کرنا ہوں گے، جبکہ مزید 100 ملین ڈالر ایک سابقہ عدالتی حکم سے متعلق کارروائی مکمل ہونے کے بعد ادا کیے جائیں گے۔
یہ معاملہ ٹک ٹاک کی سابقہ ایپ ’میوزکلی‘ سے بھی جڑا ہوا ہے، جسے چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے 2017 میں خریدنے کے بعد ٹک ٹاک میں ضم کردیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مبینہ طور پر بچوں کے لیے بنائے گئے ’کڈز موڈ‘ اکاؤنٹس سے بھی ای میل ایڈریسز سمیت دیگر معلومات جمع کی جاتی رہیں۔
تصفیے میں بائٹ ڈانس کا نام بھی شامل ہے، جو ٹک ٹاک کی امریکی سرگرمیوں میں تقریباً 19.9 فیصد حصص رکھتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور آن لائن سیفٹی سے متعلق اقدامات پر نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔
یورپی یونین بھی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی پرائیویسی کو پہلے سے زیادہ مضبوط تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب برطانیہ کے مواصلاتی ریگولیٹر آفکام نے بھی ٹک ٹاک کے عمر کی تصدیق کے نظام اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
ٹک ٹاک کی جانب سے تصفیے اور عائد کیے گئے الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔