ماسکو: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کے اچانک روس پہنچنے سے عالمی سطح پر نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق جان ریٹکلف ماسکو پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے دورے کے مقصد اور شیڈول سے متعلق سرکاری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
روسی ذرائع کے مطابق ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ بوئنگ ماسکو پہنچا، جو اس سے قبل لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں موجود تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ اینڈریوز ایئر فورس بیس سے روانہ ہوا تھا۔
اینڈریوز ایئر فورس بیس کو امریکی اعلیٰ حکام کے بیرونِ ملک سفر کے لیے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بیرونِ ملک روانہ ہوتے ہیں۔
روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ سی آئی اے سربراہ کے ماسکو پہنچنے کے باوجود ان کے دورے کی نوعیت، روسی حکام سے ممکنہ ملاقاتوں اور ایجنڈے کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
جان ریٹکلف کا یہ دورہ اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکا اور روس کے اعلیٰ سطحی حکام کے درمیان براہِ راست ملاقاتیں معمول کی بات نہیں، بالخصوص موجودہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اس نوعیت کے رابطے خاص اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔
دورے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر یہ واضح ہوسکے گا کہ سی آئی اے سربراہ کے ماسکو پہنچنے کا اصل مقصد کیا تھا اور آیا انہوں نے روسی حکام سے کوئی اہم ملاقات کی یا نہیں۔