نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً 1300 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیرملکی سیاحوں کی بھی شامل ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں بدھ کی صبح اچانک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ بھاری پتھر اور ملبہ دریاؤں میں گرنے سے پانی کا شدید ریلا آیا، جس نے رہائشی علاقوں، دیہات اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
چینی حکام کی جانب سے جاری نگرانی کی ویڈیو میں مٹی اور پانی کا ایک بڑا ریلا عمارت سے ٹکراتا دکھائی دیا، جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے نظر آئے۔
نیپال کی جانب بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں بھی پانی کی سطح اچانک بلند ہوئی، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلے نے راستے میں آنے والی متعدد عمارتوں اور دیگر املاک کو بہا دیا۔
واقعے کی وجہ کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی طور پر نیپالی حکام نے سیلاب کو تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جبکہ چینی حکام کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ ماہرین نے گلیشیئر ٹوٹنے یا پگھلنے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے سیلاب سے چند گھنٹے قبل امکان ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ زلزلے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس سے دریا کا راستہ بند ہوگیا اور بعد ازاں پانی کا شدید ریلا نشیبی علاقوں کی جانب بہہ نکلا۔
چینی حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں تقریباً 260 غیرملکی سیاح شامل ہیں، جبکہ نیپالی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ لاپتہ 468 سیاحوں میں سے 393 غیرملکی شہری ہیں۔
لاپتہ افراد میں بھارت کے علاوہ یوکرین، ملائیشیا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سمیت مختلف ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔ آسٹریلوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ نیپال میں اس کے 34 شہری بھی لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب چین کے سرحدی علاقے تبت میں بھی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث کم از کم 3 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
شدید تباہی کے بعد مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے نیپال کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے فوری طور پر 5 لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے 14 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں۔
نیپال میں ریڈ کراس کے سربراہ ڈیوڈ فیشر کے مطابق اس وقت اولین ترجیح متاثرہ علاقوں تک پہنچنا، تباہ شدہ گھروں کے مکینوں، زخمیوں اور ان علاقوں میں پھنسے افراد کو امداد فراہم کرنا ہے جو دیگر علاقوں سے منقطع ہو چکے ہیں۔
یورپی یونین نے بھی امدادی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے کوپرنیکس سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم فعال کردیا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی طبی سامان روانہ کردیا ہے۔
بھارت نے بھی فوری امداد کے طور پر 10 ٹن امدادی سامان نیپال روانہ کردیا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں، تاہم دشوار گزار جغرافیہ اور تباہ شدہ راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔