وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی روشنی میں آٹھ ذمہ دار افراد کو فوری طور پر معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے ان افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔
ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے عبوری رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کے دوران واقعے کی تقریباً دو منٹ پر مشتمل سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جن افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ واقعے میں غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسی غفلت کے باعث کسی خاندان کو اپنے پیاروں سے محروم نہ ہونا پڑے۔
فائر سیفٹی نظام میں سنگین خامیاں سامنے آگئیں
تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں پمز کے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں آتشزدگی یا کسی بھی بڑے ہنگامی واقعے سے نمٹنے کے لیے نہ تو جامع ایس او پیز موجود تھے اور نہ ہی عملے کے لیے مؤثر تربیتی نظام قائم کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پمز کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا، جبکہ واقعے کے وقت متعلقہ سپروائزری اسٹاف بھی موجود نہیں تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آگ لگنے کے وقت وارڈ میں صرف دو نرسیں، ایک خاتون سکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے، جبکہ آگ نے محض دو منٹ کے اندر پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جبکہ ابتدائی ایمرجنسی رسپانس مزید 15 منٹ بعد موقع پر پہنچا۔
کمیٹی نے بتایا کہ متعلقہ وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی نصب نہیں تھا، جبکہ نیونیٹل وارڈ میں فائر سیفٹی سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی ہوئی۔
ایک ماہ قبل بھی آگ لگی، مگر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیونیٹل وارڈ میں پیش آنے والے حادثے سے تقریباً ایک ماہ قبل جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔
تاہم اس واقعے کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پمز میں آگ یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی مستقل اور باقاعدہ ذمہ دار افسر بھی تعینات نہیں تھا، جبکہ یہ اہم ذمہ داری ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی طور پر سونپی گئی تھی۔
اجلاس کے دوران پمز کی مجموعی انتظامی صورتحال، خستہ انفراسٹرکچر اور انتظامی بدانتظامی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
نومولود کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت
وزیراعظم شہباز شریف نے آتشزدگی کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک نومولود بچے کو بچانے والی نرس کو ستارۂ خدمت دینے کی منظوری بھی دے دی۔
دوسری جانب واقعے کے وقت وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنانے اور ان کے کردار سے متعلق مزید تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے معطل اور ہٹائے گئے افسران کی جگہ فوری طور پر اہل اور تجربہ کار افراد کی تعیناتی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کے انتظامی معاملات میں کسی قسم کا خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے پمز انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔
شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے مزید جامع اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت پوری قوم کے لیے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور سید مصطفیٰ کمال سمیت تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، کمیٹی کے دیگر ارکان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔