استنبول: سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز اور خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے سیاسی رابطہ کاری، دفاعی تعاون، دفاعی انضمام اور مشترکہ فوجی تیاری انتہائی ضروری ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے پیر کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت اور گہرائی کو اجاگر کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت موجودہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے شرکا نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا جائزہ لیا اور ایجنڈے میں شامل مختلف فیصلوں اور سفارشات کی منظوری بھی دی۔
شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں سعودی وفد نے اجلاس میں شرکت کی، جس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کا جائزہ لیا اور خطے کی تازہ ترین صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ استنبول اجلاس میں شریک ممالک نے مکہ دفاعی اتحاد کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل شروع کردیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف قائم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو طرز کے اس اتحاد میں مستقبل میں مخصوص شرائط پر پورا اترنے والے دیگر ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی موجود ہے۔
اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے بھی ملاقات کی، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے کی صورتحال اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے، جبکہ اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے متعلقہ وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے۔