تہران: ایران نے خلیج کے علاقے میں ایک نئے ’ممنوعہ زون‘ کے قیام کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند روز یا ہفتوں میں اس حوالے سے باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے راستوں کے نقشے بھی جاری کیے جائیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کے اطراف ایک نیا ممنوعہ علاقہ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق نئے زون میں داخل ہونے والے ان بحری جہازوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے ممنوعہ زون کی حدود امریکی ناکہ بندی کے زیراثر علاقوں سے آبنائے ہرمز تک پھیل سکتی ہیں اور اس کا دائرہ خلیج کے دیگر حصوں تک بھی وسیع ہوگا۔
محسن رضائی نے خبردار کیا کہ جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ارادے سے اس مخصوص علاقے میں داخل ہوگا، اس کی شناخت کی جائے گی اور اسے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نئے راستوں کے نقشوں کی منظوری جلد دی جائے گی۔
ان کے بقول ایران اور عمان کی سمندری حدود سے گزرنے والی ایک نئی بین الاقوامی بحری راہداری کے نقشوں پر اتفاق ہوچکا ہے، جس کے انتظامی معاملات ایران کے پاس ہوں گے اور آئندہ چند روز میں اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کی ضمانت اسی صورت دے گا جب امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے بند کرے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق محسن رضائی کا بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ایران کی جانب سے امریکی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے تین تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
ماہرین ایران کے میزائل حملوں کو خطے میں کشیدگی کے خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کی علامت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے قبل حملوں کا زیادہ تر رخ تجارتی بحری جہازوں تک محدود تھا۔
امریکہ کی جانب سے کئی ہفتوں سے ایران پر سمندری اور معاشی دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 20 سے زائد جنگی جہاز ایرانی ناکہ بندی کے آپریشن میں شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کارروائی کے دوران 92 بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، جبکہ تین جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران مسلسل دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی بھی کرسکتا ہے۔
اتوار کو ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے ایک بغیر پائلٹ امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم امریکی فوج نے ایرانی دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور حساس محاذ بن کر سامنے آئی ہے۔ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
ایک ماہ بعد لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی
تقریباً ایک ماہ تک صورتحال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو تاحال جاری ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیوں اور دیگر دباؤ کے اقدامات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز اور خلیج کے علاقے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، بحری تجارت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔