ابوظبی: قطر نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ اور عالمی اتحادوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منعقدہ ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اپنی سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ خود انحصاری کی پالیسی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں عالمی افواج کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ مضبوط اسٹریٹیجک تعلقات یقیناً اہم ہیں، تاہم صرف ان انتظامات کو خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، “سکیورٹی کے معاملے میں خود پر زیادہ انحصار ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ ہمیں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کی ضرورت ہے، لیکن اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جنگ کے دوران قطر کو بھی ایران کی جانب سے خطرات اور حملوں کا سامنا رہا، خصوصاً توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا۔
قطر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک کا میزبان ہے۔ جاری تنازع کے دوران ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ نے خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی تنازع کا اہم مرکز بن چکی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اقدامات کیے ہیں۔
دوسری جانب قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ ماہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ بھی کیا تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عمان نے، جو آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف واقع ہیں، عارضی بحری راہداری کے قیام اور سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق مذاکرات اور تعاون کے امکانات پر بات چیت کا اعلان کیا تھا۔
خطے میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی کے درمیان قطر کے اس بیان کو خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں علاقائی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کے ساتھ ساتھ اپنی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔