18ویں ترمیم پر عمل نہ ہوا تو وزیراعظم کو کمیٹی میں طلب کیا جائے گا

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: سینیٹ کی صوبائی خودمختاری سے متعلق ذیلی کمیٹی نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات پر مکمل عملدرآمد، صوبائی معاملات سے متعلق 24 غیر ضروری وفاقی وزارتوں اور اداروں کے خاتمے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا معاملہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کردی۔

سینیٹر بیرسٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے اندر 18ویں ترمیم پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ہدایات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وزیراعظم کو کمیٹی کے اجلاس میں طلب کیا جائے گا۔

اجلاس میں سینیٹر جان محمد بلیدی، پونجو بھیل اور اطلاعات، اسٹیبلشمنٹ، کابینہ، نجکاری اور پاور ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کی عدم موجودگی پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

ڈسکوز کی نجکاری پر سوالات

کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے نجکاری کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور میں بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح بالترتیب 100، 98 اور 99 فیصد ہے، اس لیے ایسی کمپنیوں کی نجکاری کی ضرورت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت اپنے انتظام میں آنے والی ڈسکوز کی نجکاری کر رہی ہے، جبکہ اس معاملے پر 2011 میں بھی مشترکہ مفادات کونسل میں غور کیا جا چکا ہے۔

کمیٹی کا مؤقف تھا کہ بجلی کی تقسیم کا معاملہ آئین کے تحت صوبوں کو حاصل اختیارات کے مطابق حل کیا جائے، جبکہ ڈسکوز کی نجکاری کا معاملہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھیج کر مناسب فیصلہ کرایا جائے۔

24 وفاقی وزارتوں اور اداروں پر اعتراض

کمیٹی نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں سے متعلق 24 وفاقی وزارتوں اور اداروں کی موجودگی پر سخت اعتراض کیا۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ صوبائی معاملات سے متعلق ذمہ داریوں کا وفاقی سطح پر برقرار رہنا 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے۔

کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ یہ وزارتیں رابطے، ہم آہنگی اور عالمی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ کمیٹی کے مطابق یہی دلائل گزشتہ اجلاس میں بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔

کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ معاملہ وزیراعظم کے علم میں لاتے ہوئے ازسرنو عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔

پولیس کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی ہدایت

اجلاس میں صوبوں میں تعینات پولیس افسران کی ترقی اور سروس سے متعلق معاملات میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

کمیٹی نے کہا کہ پولیس سے متعلق سروس معاملات صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے متعلقہ اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بھی دو ہفتوں کے اندر عملدرآمد رپورٹ طلب کی گئی۔

نشریات اور پرنٹ میڈیا کے اختیارات صوبوں کو دینے کی سفارش

کمیٹی نے وزارت اطلاعات کو آئین کے آرٹیکل 159 کے تحت نشریات اور ٹیلی کاسٹنگ کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے عملدرآمد کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ پرنٹ میڈیا سے متعلق اختیارات، جن میں اے بی سی بھی شامل ہے، صوبوں کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی اور دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کی گئی۔

تیل اور گیس کے وسائل میں صوبائی حق

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 172(3) کے تحت معدنی تیل اور قدرتی گیس کے وسائل میں وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ملکیت کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ صوبوں کو متعلقہ بورڈز میں مناسب نمائندگی، ملکیت اور منافع میں جائز حصہ ملنا چاہیے اور اس معاملے کو آئینی طریقہ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

CAAD اور CCI سے متعلق سفارشات

کمیٹی نے اسلام آباد میں عوام کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (CAAD) کی بحالی پر غور کرنے کی سفارش بھی کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی ازسرنو تشکیل اور اجلاس بلانے سے متعلق سمری وزیراعظم کے پاس زیر التوا ہے۔ کمیٹی نے وزیراعظم کو نیا خط لکھنے اور CCI سے متعلق معاملات اس کے مستقل سیکریٹریٹ کو منتقل کرنے کی سفارش کی۔

تھر کول پر بریفنگ

کمیٹی کو تھر کول سے چلنے والے بجلی گھروں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت تھر کے کوئلے سے چلنے والے 6 بجلی گھر آپریشنل ہیں، جن میں سے 4 مکمل طور پر تھر کا کوئلہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ باقی دو بجلی گھروں میں تھر کے کوئلے کا استعمال بالترتیب 33 اور 20 فیصد ہے۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تھر کول انرجی بورڈ اور متعلقہ بجلی گھروں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے مجموعی طور پر وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور دو ہفتوں کے اندر جامع عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں