میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے اہم بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا کی ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ سر پر موجود چوٹ کے نشانات موت سے پہلے کے تھے۔
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق میر رضا کے سر کے پچھلے حصے پر کسی سخت چیز کے لگنے کا نشان موجود تھا اور یہ زخم اس وقت آئے جب وہ زندہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے چہرے کی جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تحلیل کی کیفیت مختلف تھی، جبکہ جسم پر تیزاب اور کیمیکل سے جلنے کے نشانات بھی موجود تھے۔
پولیس سرجن کے مطابق سینے پر موجود ایک نشان کو گولی کے داخل ہونے کا مقام قرار دیا گیا تھا، تاہم یہ تشخیص درست نہیں تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں صرف وہ معلومات شامل کی گئیں جن پر تمام متعلقہ ارکان متفق تھے۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ گولی لگنے سے میر رضا کی پسلیاں فریکچر ہوئیں جبکہ گولی نے پھیپھڑوں اور دل کو بھی نقصان پہنچایا۔
ان کے مطابق جسم کے ہاتھوں اور پیروں پر بھی کیمیکل سے جھلسنے کے نشانات پائے گئے۔ زخموں کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی جسم کے پچھلے حصے سے داخل ہو کر دل کی جانب سے باہر نکلی، جبکہ رپورٹس میں بھی داخلی زخم کے پیچھے سے لگنے کی تصدیق کی گئی۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ میر رضا کی شرٹ سے ہائیڈروکلورک ایسڈ کے آثار بھی ملے تھے۔
پولیس سرجن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی مرتبہ کیمیکل ٹارچر کا ایسا کیس دیکھا ہے۔ ان کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ جب میر رضا کو گولی لگی تو اس کے جسم میں اینستھیسیا موجود تھا۔
ڈاکٹر سمیعہ کا مزید کہنا تہا کہ انکو موت مار دھمکیاں مل رہی ہیں اور کچھ لوگ انکا پیچھا بھی کر رہے ہیں۔