لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے قومی کرکٹر محمد رضوان کو جاری کیا گیا سوالنامہ سامنے آگیا، جس میں ان سے گزشتہ کئی برسوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آمدن، اخراجات، جائیداد اور سفری ریکارڈ سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
این سی سی آئی اے کے وکیل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے پانچ صفحات پر مشتمل سوالنامہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا۔
سوالنامے کے مطابق محمد رضوان سے گزشتہ 10 سال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران تنخواہ کے ذرائع اور کرائے سے حاصل ہونے والی آمدن کی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔
کرکٹر سے بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم پر حاصل ہونے والے منافع کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ سوالنامے میں گزشتہ 5 سال کے دوران کیے گئے گھریلو اخراجات، تعلیمی اخراجات اور وراثت میں ملنے والی جائیداد کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے گزشتہ 5 سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔
سوالنامے میں ان کے بین الاقوامی دوروں اور ان پر آنے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ گزشتہ 5 سال کے دوران کیے گئے اندرونِ ملک سفری ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
محمد رضوان سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آیا انہوں نے گزشتہ 5 سال کے دوران کسی شخص سے قرض لیا، اگر لیا تو اس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔
آن لائن جوئے سے متعلق انکوائری
دوسری جانب محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس بھی سامنے آگیا ہے۔
نوٹس کے مطابق این سی سی آئی اے پاکستان کرکٹ میں آن لائن جوئے سے متعلق انکوائری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں محمد رضوان کا بیان ریکارڈ کرنا مطلوب ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر محمد رضوان مقررہ کارروائی کے لیے پیش نہیں ہوئے تو اسے اس طور پر لیا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سوالنامہ اور نوٹس میں طلب کی گئی معلومات انکوائری کا حصہ ہیں؛ ان میں کسی جرم کا حتمی تعین نہیں کیا گیا۔