واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم آئندہ صورتحال مذاکرات کی پیش رفت پر منحصر ہوگی۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’امید ہے ہم جنگ کے اختتام کی جانب بڑھ رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے براہِ راست پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
ٹرمپ کی خلیجی رہنماؤں سے ملاقات متوقع
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کرسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات منگل کو متوقع ہے، جس میں ایران کے ساتھ جنگ کے اگلے مرحلے اور جنگ کے بعد کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
متوقع اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دیگر عرب اور مسلم ممالک کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
جنگ کے بعد کی امریکی حکمت عملی زیرِ غور
رپورٹس کے مطابق ملاقات میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران جنگ کے بعد کی صورتحال سے متعلق تجاویز اور حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس متوقع ملاقات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی بات کرچکے ہیں، تاہم تازہ رپورٹنگ کے مطابق ابھی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ موجودہ جنگ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی ایران پر کارروائی کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے۔ جنگ کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال کے ساتھ تیل اور گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔