HEC کا لازمی AI کورس: طلبہ کے لیے نئی مہارت یا ایک اور نصابی بوجھ؟

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک کی جامعات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال اور تدریس کے حوالے سے دو اہم اقدامات کیے ہیں۔ کمیشن نے ملک بھر میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے لیے خزاں 2026 سے تین کریڈٹ آورز پر مشتمل لازمی مصنوعی ذہانت کا کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جامعات میں جنریٹو اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک مسودہ پالیسی بھی جاری کیا گیا ہے۔

یہ دونوں اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مصنوعی ذہانت تعلیمی اور پیشہ ورانہ دنیا میں تیزی سے اہمیت حاصل کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق پالیسی کا اصل چیلنج یہ نہیں ہونا چاہیے کہ طلبہ اے آئی استعمال کر رہے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ جامعات طلبہ کی حقیقی صلاحیت اور سیکھنے کو کس طرح جانچیں گی۔

مسودہ پالیسی میں طلبہ کو اے آئی سے تیار کردہ کام اپنے نام سے جمع کرانے سے روکا گیا ہے اور ان سے یہ بھی تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ استعمال کیے گئے اے آئی ٹولز اور ان کے استعمال کی وجوہات ظاہر کریں۔ اگرچہ یہ اصول دیانت داری کے جذبے کے تحت وضع کیے گئے ہیں، لیکن ان پر مکمل عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔ کسی استاد کے لیے یہ ثابت کرنا آسان نہیں کہ کسی طالب علم نے گھر پر اپنا کام خود کیا یا اے آئی کی مدد سے تیار کیا۔

خود پالیسی میں بھی اس مسئلے کا اعتراف موجود ہے، کیونکہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی طالب علم کو صرف اے آئی ڈیٹیکشن رپورٹ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

اے آئی نے تعلیم کی ضرورت ختم نہیں کی

مصنوعی ذہانت موجودہ صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی صلاحیت خود پیدا نہیں کرتی۔ ایک ماہر طالب علم یا محقق اے آئی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون سا سوال پوچھنا ہے، ڈیٹا قابلِ اعتماد ہے یا نہیں، اور سامنے آنے والا جواب درست ہے یا بظاہر اچھا لیکن حقیقت میں غلط۔

اسی لیے یہ سوال اہم ہے کہ اگر ایک مشین اب ڈیٹا صاف کرنے، ماڈل بنانے یا کوڈ لکھنے کا کام چند منٹوں میں کر سکتی ہے تو جامعات میں ان مہارتوں کی تعلیم کیوں دی جائے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف کوئی مخصوص کام انجام دینا نہیں بلکہ سوچنے، مسئلہ حل کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ جس طرح کیلکولیٹر کی موجودگی کے باوجود بچوں کو ریاضی سکھائی جاتی ہے، اسی طرح اے آئی کے باوجود بنیادی علمی صلاحیتیں پیدا کرنا ضروری ہے۔

طالب علم کا خود مضمون لکھنا صرف ایک مضمون تیار کرنا نہیں، بلکہ دلیل کو ترتیب دینا، خیالات کو جوڑنا اور اپنے مؤقف کا دفاع کرنا سیکھنا ہے۔ مضمون شاید عارضی ہو، لیکن اس عمل سے پیدا ہونے والی ذہنی صلاحیت دیرپا ہوتی ہے۔

لازمی اے آئی کورس کا مقصد کیا ہو؟

HEC کا لازمی اے آئی کورس برسوں میں جامعات کے نصاب میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے، مگر اس سوال پر ابھی مزید توجہ درکار ہے کہ اس کورس میں کیا پڑھایا جائے گا۔

اگر یہ کورس صرف چیٹ بوٹس کو بہتر انداز میں ہدایات دینے، پرامپٹ لکھنے اور مقبول اے آئی ٹولز کا تعارف کرانے تک محدود رہا تو یہ ایک مختصر تربیتی نشست سے زیادہ نہیں ہوگا۔ ایسے ٹولز تیزی سے بدل رہے ہیں اور ان کے بنیادی استعمال کی معلومات پہلے ہی عام ہو چکی ہیں۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ طلبہ کو اے آئی کے ساتھ کام تخلیق اور خودکار بنانے کی صلاحیت دی جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ API کیا ہے، کسی اے آئی ماڈل سے منظم ڈیٹا کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور ہزاروں ریکارڈز پر ایک خودکار عمل کیسے چلایا جا سکتا ہے۔

ایک طالب علم جو صرف چیٹ بوٹ سے ایک ایک دستاویز پر بات کرتا ہے، محدود پیمانے پر کام کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو طالب علم اے آئی کو کسی نظام یا API کے ذریعے استعمال کرنا جانتا ہے، وہ پورے ڈیٹا آرکائیو پر کام خودکار بنا سکتا ہے۔

امتحانات کا طریقہ بدلنے کی ضرورت

اے آئی کے دور میں گھریلو اسائنمنٹس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں سیکھنے کی مشق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ طلبہ کو گھر پر اے آئی کے استعمال کی اجازت دی جائے، مگر ان اسائنمنٹس کو حتمی گریڈ میں کم وزن دیا جائے۔

اصل جانچ ان حالات میں ہونی چاہیے جہاں طالب علم کا کام براہِ راست دیکھا جا سکے، مثلاً کلاس روم میں تحریری امتحان، مختصر زبانی دفاع، پریزنٹیشن یا وائوا۔

صرف پانچ منٹ کی زبانی گفتگو بھی یہ واضح کر سکتی ہے کہ طالب علم نے اپنا کام سمجھ کر کیا ہے یا صرف اے آئی سے تیار کرایا ہے۔ جو طالب علم اے آئی کو سوچنے اور سیکھنے میں معاون کے طور پر استعمال کرے گا، وہ اپنے کام سے متعلق سوالات کا جواب دے سکے گا۔ جس نے اے آئی کے ذریعے سوچنے کی ضرورت ہی ختم کر دی، اس کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہوگا۔

اے آئی ڈیٹیکٹرز پر مکمل انحصار خطرناک

اے آئی سے تیار کردہ تحریر کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر بھی قابلِ اعتماد حتمی ثبوت نہیں سمجھے جا سکتے۔ 2023 میں اسٹینفورڈ کی ایک ٹیم نے سات معروف اے آئی ڈیٹیکٹرز کا جائزہ لیا۔ غیر مقامی انگریزی بولنے والوں کے TOEFL مضامین میں ان سسٹمز نے بڑی تعداد میں انسانی تحریروں کو غلط طور پر اے آئی سے تیار شدہ قرار دیا۔

اگرچہ بعض کمپنیوں نے بعد میں اپنے ڈیٹیکٹرز کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن مختلف زبانوں اور تحریری انداز میں ان کی کارکردگی مختلف ہو سکتی ہے۔ پاکستانی طلبہ کی تحریروں پر کسی بھی ایسے نظام کے استعمال سے قبل مقامی سطح پر اس کی جانچ ضروری ہے۔

اس کے مقابلے میں نگرانی میں ہونے والے امتحانات کسی طالب علم پر الزام نہیں لگاتے۔ وہ صرف ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں یہ واضح ہو کہ کام کس نے اور کیسے کیا۔

اصل سوال: ڈگری کیا ثابت کرتی ہے؟

اے آئی کے دور میں جامعات کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ایک ڈگری دراصل کس چیز کی ضمانت دیتی ہے۔

اگر ڈگری صرف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ گریجویٹ ایک دستاویز تیار کر سکتا ہے تو یہ معیار تیزی سے اپنی اہمیت کھو رہا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اب ایسی دستاویزات چند لمحوں میں تیار کر سکتی ہے۔

لیکن اگر ڈگری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایک شخص مسئلہ سمجھ سکتا ہے، درست سوال اٹھا سکتا ہے، کسی جواب کے معیار کو پرکھ سکتا ہے اور اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کر سکتا ہے تو تعلیم کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

لہٰذا جامعات کے لیے بہتر راستہ اے آئی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ امتحانات اور تدریس کو نئے دور کے مطابق ڈھالنا ہے۔

HEC کی نئی پالیسی میں اے آئی کے استعمال کے اصول طے کرنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ جامعات سیکھنے کے بنیادی مقصد کو واضح رکھیں۔ ٹیکنالوجی بدلتی رہے گی، اے آئی ماڈلز بھی بدلتے رہیں گے، مگر تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ طالب علم کیا تیار کر سکتا ہے؛ اصل مقصد یہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے وہ کیا سیکھتا اور کیا بن جاتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں