سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم Zahir Jaffer کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کیس میں موجود واضح شواہد اور پہلے سے طے شدہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نظرثانی کی اپیل کسی بھی قانونی جواز پر پوری نہیں اترتی، اس لیے اسے خارج کیا جاتا ہے۔
مقدمے کا پس منظر
نور مقدم، جو سابق سفارتکار Shaukat Ali Mukadam کی صاحبزادی تھیں، کو جولائی 2021 میں اسلام آباد میں قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے روز ہی مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔
فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے اسے سزائے موت سنائی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد ازاں قتل کے ساتھ ریپ کے الزام میں بھی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے ریپ کیس میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جبکہ قتل کے الزام میں سزائے موت برقرار رہی۔
دماغی بیماری کا مؤقف مسترد
نظرثانی اپیل کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ملزم کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کے موکل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔
تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت سوالات اٹھائے اور ریکارڈ طلب کیا کہ علاج کب، کہاں اور کس ڈاکٹر کی نگرانی میں ہوا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پیش کیے گئے طبی خطوط اور دستاویزات کیس کے وقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
عدالت کے سخت ریمارکس
سماعت کے دوران ججز نے وکیل سے استفسار کیا کہ ذہنی بیماری کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے واضح اور مستند میڈیکل ریکارڈ پیش کیا جائے۔
ایک موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ دلائل میں تضاد ہے اور بعض دعوے پہلے سے طے شدہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت نہ میڈیا کے دباؤ میں فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے اثر میں۔
قانونی نکات اور دلائل
وکیل دفاع نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کے دوران میڈیکل بورڈ نہیں بنایا گیا اور نشہ یا ذہنی کیفیت کے مکمل ٹیسٹ نہیں ہوئے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ اعتراضات ٹرائل کورٹ میں اٹھائے جانے چاہییں تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ جو معاملات پہلے ہی ٹرائل اور اپیلیٹ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں، انہیں نظرثانی میں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
فیصلے کا نتیجہ
دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رہے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اب ملزم کے پاس صرف رحم کی اپیل کا آپشن باقی رہ گیا ہے، جس کا فیصلہ صدرِ پاکستان کے اختیار میں ہوگا۔