پانی یا سکیورٹی؟ فیفا کی نئی پالیسی پر بحث تیز

فہرستِ مضامین

فیفا نے اپنی پالیسی میں آخری وقت میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کے دوران شمالی امریکہ کے 16 اسٹیڈیمز میں شائقین ری یوز ایبل (دوبارہ استعمال ہونے والی) پانی کی بوتلیں ساتھ نہیں لا سکیں گے۔

اس فیصلے کے بعد پہلے سے موجود سہولت میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے، جہاں شائقین کو اس سے قبل خالی بوتلیں لا کر اسٹیڈیم میں مفت پانی بھرنے کی اجازت دی گئی تھی، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کئی مقامات پر شدید گرمی اور محدود سایہ دار جگہوں کا مسئلہ موجود ہے۔

شائقین اور فین گروپس کا ردعمل

برطانوی فین گروپ “فری لائنز” نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شائقین کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ اقدام اضافی آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں پانی جیسی بنیادی سہولت پر پابندی تشویش ناک ہے، خاص طور پر جب موسم شدید گرم رہنے کی توقع ہو۔

سکیورٹی اور گرمی کا جواز

امریکی حکام کی جانب سے اس فیصلے پر مشاورت جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے کہا کہ بوتلوں پر پابندی کا ایک پہلو سکیورٹی خدشات بھی ہیں۔

ان کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ بوتلوں میں کوئی مشکوک یا سخت چیز ہو تو اسے نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ گرمی اور پانی کی دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ:
“ہمیں شائقین کی حفاظت اور ان کی ہائیڈریشن دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے، اور اس پر بات چیت جاری ہے۔”

فیفا کی وضاحت

فیفا نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ یہ پابندی سکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے لگائی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق تمام کھلاڑیوں، شائقین، عملے اور رضاکاروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

فیفا نے مزید کہا کہ کچھ اسٹیڈیمز پہلے ہی اس طرح کی پابندیاں رکھتے تھے، اس لیے اب یہ فیصلہ تمام 16 اسٹیڈیمز پر یکساں طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔

پہلے کیا اجازت تھی؟

اس سے قبل شائقین کو ایک لیٹر تک کی شفاف اور ری یوز ایبل پانی کی بوتل ساتھ لانے کی اجازت تھی، جسے اسٹیڈیم میں مفت پانی سے بھرنے کی سہولت موجود تھی۔

نئی پالیسی کے بعد یہ سہولت بھی ختم ہو گئی ہے، جس پر فین گروپس نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ممکنہ گرمی کا چیلنج

ماہرین کے مطابق امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والے میچز کے دوران درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث پانی کی دستیابی اور ہائیڈریشن ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔

تنازع جاری

فی الحال شائقین، فین گروپس اور انتظامیہ کے درمیان اس فیصلے پر بحث جاری ہے کہ آیا سکیورٹی کے نام پر یہ پابندی ضروری ہے یا شدید گرمی میں شائقین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں