24 حلقے، 396 امیدوار اور ایک سخت سیاسی معرکہ—گلگت بلتستان الیکشن قریب

فہرستِ مضامین

گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات سے چند روز قبل سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے، جہاں مختلف جماعتیں آخری مرحلے کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

ایک طرف وفاق میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت گلگت بلتستان میں سرگرم ہے، تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو قانونی و انتظامی رکاوٹوں اور انتخابی نشان سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ان حالات کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابی شیڈول اور ووٹرز کی تفصیل

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق انتخابی مہم 5 جون کی رات 12 بجے ختم ہو جائے گی، جس کے بعد 7 جون کو پولنگ کے ذریعے خطے کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 6 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 56 ہزار کے قریب ہے۔ مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔

اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستیں، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔

حلقوں کی تقسیم اور امیدوار

دیامر اور سکردو میں 4، 4 حلقے، گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 حلقے، نگر اور استور میں 2، 2 جبکہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ میں 1، 1 حلقہ قائم ہے۔

ان 24 نشستوں پر مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کو انتخابی نشان کا بحران

پی ٹی آئی کو اس بار شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فروری 2024 کے عام انتخابات سے قبل اس کا انتخابی نشان “بلا” واپس لے لیا گیا تھا، جس کے بعد گلگت بلتستان میں بھی جماعت کو ایک ہی انتخابی نشان دستیاب نہ ہو سکا۔

بعد ازاں “گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی” کے نام سے متبادل پلیٹ فارم بنایا گیا، تاہم اس کی رجسٹریشن بھی بعض دستاویزی مسائل کے باعث معطل ہو گئی۔ نتیجتاً پی ٹی آئی کے زیادہ تر امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

پارٹی رہنماؤں نے انتظامیہ پر جلسوں پر پابندی، دفعہ 144 کے نفاذ اور مبینہ امتیازی سلوک کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں اور بیانات

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسوں سے خطاب میں وفاقی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے اسلام آباد کے بجائے مقامی سطح پر ہونے چاہییں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی قیادت وفاقی حکومت میں اپنی پوزیشن کے باعث انتخابی مہم میں بھرپور انداز میں سرگرم ہے۔

انتخابی رجحانات اور تجزیہ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی آزاد امیدواروں کی صورت میں میدان میں ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق 24 حلقوں میں پی ٹی آئی نے 20 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، تاہم ان میں سے زیادہ مضبوط امیدوار محدود تعداد میں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کا نظرانداز مسئلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخابی مہم میں گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ، یعنی موسمیاتی تبدیلی، سیاسی جماعتوں کے منشور میں نمایاں طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

خواتین ووٹنگ سے متعلق صورتحال

ضلع دیامر کے ایک حلقے میں خواتین کی ووٹنگ کے عمل پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں روایتی سماجی ڈھانچے کے باعث خواتین کی انتخابی شمولیت محدود ہے، جس پر انسانی حقوق اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

سیاسی تسلسل اور تاریخی رجحان

2009 سے اب تک کے انتخابات میں ایک رجحان نمایاں رہا ہے کہ وفاق میں حکمران جماعت ہی گلگت بلتستان میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ اگر یہ روایت برقرار رہی تو اس بار بھی مسلم لیگ (ن) کو برتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی انتخابی حکمت عملی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں