آسٹریلیا کی ایک عدالت نے 63 سالہ شخص کو آئندہ دو سال تک ناروے کی شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا اور ان کے خاندان سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے روک دیا ہے۔ شہزادی اس وقت آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔
سڈنی کے رہائشی ڈیوڈ جیمز کک بدھ کے روز عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے خلاف دو سالہ Apprehended Violence Order (AVO) جاری کیا گیا۔ اس حکم کے تحت وہ نہ صرف شہزادی سے رابطہ نہیں کر سکتے بلکہ سڈنی یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہونے، شہزادی کے بارے میں آن لائن تلاش کرنے اور ان یا ان کے اہلِ خانہ سے کسی بھی ذریعے سے رابطہ کرنے پر بھی پابند ہیں۔
اس نوعیت کے عدالتی احکامات کا مقصد کسی فرد کو دوسرے شخص کے خلاف ہراسانی، دھمکی یا خوف و ہراس پھیلانے والے اقدامات سے روکنا ہوتا ہے۔
سڈنی کی نیوٹاؤن عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ جیمز کک نے کہا کہ یہ معاملہ ایک کارڈ بھیجنے سے شروع ہوا تھا جو انہوں نے شہزادی انگرڈ کو ارسال کیا تھا۔ شہزادی ناروے کے شاہی خاندان میں تخت کی جانشینی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
کک کا کہنا تھا، ’’میں نے صرف دوستی کی درخواست کرتے ہوئے ایک کارڈ بھیجا تھا، بس اتنی ہی بات تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ انہیں کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف پہنچے، اور نہ ہی میں ایسا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ایک اچھی شخصیت ہیں۔ میری ان سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تھی اور بعد میں میں نے انہیں کارڈ بھیج دیا تھا۔‘‘
عدالتی کارروائی کے بعد کک کو ایک نیوز فوٹوگرافر پر حملہ کرنے کے الزام میں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق فوٹوگرافر کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔
بعد ازاں کک کو پولیس حراست سے رہا کر دیا گیا، تاہم حملے کے مقدمے میں انہیں 17 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔
22 سالہ شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا گزشتہ سال آسٹریلیا پہنچنے کے بعد سے سڈنی یونیورسٹی کے کیمپس میں مقیم ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی تعلقات (International Relations) میں تین سالہ ڈگری حاصل کر رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کے ولی عہد شہزادہ ہاکون اور ولی عہد شہزادی میٹے مارٹ کی صاحبزادی انگرڈ حال ہی میں اپنی شدید علیل والدہ کی عیادت کے لیے آسٹریلیا سے ناروے واپس گئی ہیں۔