گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ایک جانب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں تو دوسری جانب نوجوان ووٹرز روزگار، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نئے نمائندوں سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
20 سالہ نوجوان ووٹر کاظم نقوی، جو پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر، پینے کے صاف پانی، صحت اور روزگار کے مسائل بدستور موجود ہیں جبکہ ماضی میں کیے گئے بیشتر وعدے عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
ان کے مطابق نوجوان نسل اب صرف وعدے سننے کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتی ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
24 نشستوں پر سخت مقابلہ
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں آٹھ خواتین بھی شامل ہیں۔ انتخابی معرکہ خطے کے دس اضلاع میں منعقد ہوگا جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین انتخابی مہم کے لیے علاقے میں موجود ہیں۔
وفاقی حکومت میں شامل Pakistan Muslim League (N) اور Pakistan Peoples Party کے قائدین انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی ماحول پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تحریک انصاف کے تحفظات
Pakistan Tehreek-e-Insaf کو ایک مرتبہ پھر بطور جماعت انتخابات میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا، جس کے باعث اس کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اترے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا الزام ہے کہ ان کے مرکزی رہنماؤں کو انتخابی مہم کے لیے گلگت بلتستان آنے سے روکا گیا جبکہ بعض رہنماؤں کو علاقے سے واپس بھیج دیا گیا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انہیں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں مساوی سیاسی مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی Asad Qaiser نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کو منظم انداز میں سیاسی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف
دوسری جانب گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام امیدواروں اور جماعتوں کے لیے یکساں ضابطۂ اخلاق نافذ ہے اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔
الیکشن حکام کے مطابق بعض جماعتوں کے خلاف کیے گئے اقدامات قانونی اور انتظامی تقاضوں کے تحت کیے گئے، جبکہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل ہیں۔
پیپلز پارٹی کے بھی اعتراضات
اگرچہ Pakistan Peoples Party بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہے، تاہم پارٹی نے بھی انتخابی عمل کے بعض پہلوؤں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ووٹر فہرستوں، انتخابی ضابطہ اخلاق اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی شیڈول کے بعد بعض فیصلے قواعد کے مطابق نہیں کیے گئے۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 17 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں مقامی پولیس کے علاوہ دیگر صوبوں سے آنے والے اہلکار، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی شامل ہوں گے۔
حکام کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور امیدواروں کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی عمل پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔
آزاد امیدواروں کا بڑا کردار
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ انتخابی میدان میں آزاد امیدواروں کی غیر معمولی تعداد موجود ہے۔ اندازاً 300 کے قریب امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں، جن میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ بھی دلچسپ ہو سکتا ہے کیونکہ آزاد امیدوار اسمبلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوجوان ووٹرز فیصلہ کن ثابت ہوں گے
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس بار نوجوان ووٹرز انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ مختلف جماعتیں نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے خصوصی مہمات چلا رہی ہیں جبکہ خواتین بھی انتخابی سرگرمیوں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحرک نظر آ رہی ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کی بڑی تعداد اب یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ نئی حکومت محض انتخابی وعدوں تک محدود رہتی ہے یا واقعی روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے۔